فیس بک کی مکیش امبانی کی کمپنی میں 5.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

سرمایہ کاری کے بعد فیس بک ’جیو‘ کے دس فیصد حصص کی مالک بن گئی، مقصد وٹس ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل پیمنٹ سروسز شروع کرنا ہے، منصوبے کو تاحال بھارتی حکومت کی اجازت درکار

365

معروف سوشل میڈیا سائٹ فیس بک نے بھارت کی مشہور ٹیلی کام کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کے ٹیلی کام بزنس جیو( jio ) میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔

اس سرمایہ کاری کی مالیت 5.7  ارب ڈالر ہے اور یہ ’جیو‘ میں ابتک کی سب سے بڑی انفرادی سرمایہ کاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

صارفین کو بتائے بغیر آئی فونز کی رفتار کم کرنے پر ایپل کو 25  ملین یورو جرمانہ

مکیش امبانی مارکیٹ میں کساد بازاری کے باعث قریباً چھ ارب ڈالر سے محروم

فیس بک کے ملازم میں کورونا وائرس کی تشخیص، لندن میں واقع دفتر بند

فیس بک کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وہ اپنے میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ کو ریلائنس کے ای کامرس کے منصوبے ’جیو‘ کیساتھ جوڑنا چاہتی ہے جس کے بعد لوگ اسے آن لائن شاپنگ کے لیے استعمال کرسکیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے خبر دی تھی کہ فیسبک ’جیو‘ کے 10 فیصد حصص خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے مگر کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے اس حوالےسے بات چیت میں تعطل آگیا تھا۔

واضح رہے کہ ریلائنس انڈسٹریز بھارت کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کی ملکیت ہے اور   66 ارب ڈالر مالیت کی’جیو‘ اسکی ایک ذیلی کمپنی ہے جس کا تعلق ٹیلی مواصلات سے ہے ۔

فیسبک ’جیو‘ میں  سرمایہ کاری کرکے اسے اپنے میسجنگ پلیٹ فارم وٹس ایپ کے ساتھ جوڑ کر بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی خدمات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کا اس بارے میں ایک پوسٹ میں کہنا تھا کہ ”دنیا میں اس وقت بہت کچھ ہورہا ہے، لیکن بھارت میں اپنے کام سے متعلق ہونے والے کچھ اپڈیٹ آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ فیس بک جیو کے ساتھ ٹیم  بنا رہا ہے۔ ہم مالی سرمایہ کاری کررہے ہیں لیکن اس سے بھی بڑی بات کئی بڑے پروجیکٹ پر ایک ساتھ کام کرنے کا عزم ہے جس سے بھارت کے لوگوں کو بھی تجارت کے مواقع فراہم ہوں گے۔ فیس بک اور واٹس ایپ استعمال کرنے والے سب سب سے زیادہ لوگ بھارت میں ہیں۔”

تاہم  فیسبک کے ترجمان کے مطابق  کمپنی اس حوالے سے ابھی تجرباتی مراحل میں ہے اور اسے یہ منصوبہ شروع کرنے کے لیے بھارتی حکومت کی اجازت بھی درکار ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here