کورونا لاک ڈاؤن کے باعث پام آئل کی مانگ میں کمی، ملائیشیا، انڈونیشیا کو بڑا دھچکا

رمضان المبارک میں سحر و افطار کے وسیع انتظامات کے باعث پام آئل کی کھپت اس برس لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے کا امکان، مارچ میں ملائیشیا کو پام آئل برآمدات میں 27 فیصد جبکہ انڈونیشیا کو 3 فیصد کمی کا سامنا رہا

221

اسلام آباد: کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے لگائے جانے والے لاک ڈاؤن کے باعث اس سال رمضان المبارک میں پام آئل کی مانگ کم رہنے کا اندیشہ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت پام آئل کے بڑے درآمد کنندہ ہیں اور رمضان المبارک اس کی کھپت کا اہم سیزن ہوتا ہے۔

مانگ میں کمی کے باعث ملائیشیا کے پام تیل کی قیمتوں کو شدید دھچکا لگے گا جو پہلے ہی 30  فیصد تک کم ہوچکی ہیں۔

ایسا چین جو کہ پام آئل کا دوسرا بڑا درآمد کنندہ ہے میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی کیفیت کے نفاذ کے بعد ہوا۔

رمضان المبارک سے دو ماہ پہلے پام آئل کی مانگ میں اضافہ ہوجاتا ہے اور درآمد کنندہ ممالک مانگ کو پورا کرنے کے لیے اسے بڑی مقدار میں ذخیرہ کرلیتے ہیں۔

رمضان المبارک میں سحر و افطار کے وسیع انتظامات کے باعث اسکی کھپت بڑھ جاتی ہے مگر رواں برس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ریستورانوں، ہوٹلوں اور دکانوں کی بندش اور اجتماعات پر پابندی کے باعث اس کا استعمال واضح طور پر کم ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومت کی او جی ڈی سی ایل کے 7 فیصد شئیرز ملائیشیا کو فروخت کرنے کی تیاری مکمل

کورونا وائرس کے خلاف جنگ، انڈونیشیا نے طویل المدتی ڈالر بانڈز جاری کر دیئے

آئی ایم ایف کی جانب سے قرضوں میں ریلیف سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا؟

 پام آئل کی پیداوار کے حوالے سے ملائیشیا دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور اس حوالے سے اسکی برآمدات مارچ کے مہینے میں 27 فیصد کم رہیں جو کہ گزشتہ برس اسی مہینے میں 11 لاکھ  81 ہزار 422 ٹن تھیں۔

ملائیشین پام آئل بورڈ کے ڈیٹا کے مطابق یہ کمی  2016 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ پام آئل پیدا کرنے والے انڈونیشیا کو بھی برآمدات میں مارچ کے مہینے میں 3 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا جو کہ گزشتہ برس اس ماہ 18 لاکھ 85 ہزار  153 ٹن تھیں۔

بھارت میں تہواروں کے موقع پر پام آئل کا استعمال 10 فیصد بڑھ جاتا ہے مگر اس برس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہوٹل، ریستوران اور کیٹرنگ انڈسٹری کی بندش کے باعث اسکی کھپت میں چالیس فیصد کمی کا امکان ہے۔

مارچ میں ملک کی پام آئل کی درآمد میں 58 فیصد کمی آئی جو کہ گزشتہ برس 3 لاکھ 35  ہزار 308 ٹن تھی۔

اپریل کے مہینے میں بھارت کی پام آئل کی درآمد گزشتہ برس کی 7 لاکھ 7 ہزار 450 ٹن  سے کم ہوکر 4 لاکھ  50 ہزار ٹن ہونے کا امکان ہے ۔

پاکستان میں مارچ کے مہینے میں  پام آئل کی درآمد امید سے  چالیس  سے پچاس ہزار کم رہی ۔

ماہرین کہنا ہے کہ کورونا کے معاشی اثرات کے زیر اثر لوگوں کی نوکریاں ختم ہورہی ہیں یا انہیں تنخواہوں میں کٹوتی کا سامنا ہے اور یہ چیز پام آئل کی کھپت پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here