‘پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے ایف بی آر کو 15 ارب روپے کا نقصان ہوگا’

آئندہ مالی سال کیلئے محصولات کا ہدف 5100 ارب روپے مقرر کئے جانے کا امکان، موجودہ مالی سال کیلئے کم کردہ 3908 ارب روپے کا ہدف حاصل کرلیا جائےگا: ترجمان ایف بی آر

73

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے خدشہ ظآہر کیا ہے کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گراوٹ کے بعد مقامی سطح بھی اگر قیمتوں میں کمی کی گئی تو ایف بی آر کو 15 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔

ایف بی آرکے ممبراِن لینڈ ریونیو (پالیسی) وترجمان ڈاکٹرحامد عتیق سرورنے کہا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے کورونا وائرس کی موجودہ اوربعد میں سامنے آنے والی صورتحال کے تناظر میں آئندہ مالی سال کیلئے محصولات کا ہدف 5100 ارب روپے مقرر کئے جانے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی سرگرمیوں کے احیاء کے بعد موجودہ مالی سال کیلئے کم کردہ 3908 ارب روپے کی محصولات کا ہدف حاصل کرلیا جائےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو توقع تھی کہ اپریل کے آخرتک 500 ارب روپے کے محصولات اکھٹے کرلئے جائیں گے تاہم کورونا وائرس کی وباءکی وجہ سے اب تک 145 ارب روپے کے محصولات اکٹھے ہو سکے ہیں اورمہینہ کے آخر میں یہ حجم 210 ارب روپے تک پہنچ جائےگا۔

یہ بھی پڑھیے: 

لاک ڈاؤن، پیٹرول کی کھپت میں کمی سے ایف بی آر کی آمدن میں 45 ارب روپے خسارہ

طبی آلات کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ ، منظور نظر کمپنیوں کو اربوں کا فائدہ پہنچانے کا انکشاف

کورونا وائرس: آئی ایم ایف نے ایف بی آر کا ٹیکس آمدن کا ہدف 895 ارب روپے کم کردیا

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ایس آراوز سے متعلق سوال پرانہوں نے کہاکہ وباءکی صورتحال کے تناظرمیں خوردنی تیل کی درآمد پر ڈیوٹی میں 2 فیصد چھوٹ دیدی گئی ہے۔

اسی طرح دالوں، گندم ، آٹا اورچینی سے بنی اشیاءپر ڈیوٹی میں رعایت دی گئی ہے، ان اقدامات سے آنے والے دنوں میں ان اشیاءکی قیمتوں میں 10 سے لیکر 15 فیصد تک کمی آئے گی۔

ترجمان ایف بی آر نے بتایا کہ وزارت صحت نے ایف بی آر کو 61 درآمدی اشیاءکی فہرست دی تھی جن میں سے 19 اشیاءبرانڈ نام کے ساتھ ہیں، وزارت تجارت کی مشاورت سے فہرست کاجائزہ لیاگیا اوران 19 اشیاءکو فہرست سے خارج کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمی وباءکے تناظر میں ہنگامی بنیادوں پر7 ارب روپے مالیت کی اشیاءکی درآمد کی گئی ہیں۔

تعمیرات کے شعبہ کیلئے ریلیف پیکج کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کاکہ ایف بی آر نے تمام عمل مکمل کرلیا ہے، یہ پیکج بلڈرز اورڈویلپرز کیلئے ہے جس پر25 دسمبر سے آغاز ہوگا، تعمیراتی صنعت 20 سمتبر 2022ءتک اس سے استفادہ کرسکے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here