امریکی خام تیل کی قیمت منفی ہونے کا مطلب کیا ہے؟ عام کسٹمر کو کتنا فائدہ ہوگا؟

مانگ میں کمی کے باعث ذخیرہ گاہیں مکمل بھر گئیں، قیمت کے منفی ہونے کا تعلق تیل کے سودوں سے ہے، پٹرول پمپس پر تیل کے لیے پیسے دینا ہی پڑیں گے

461

واشنگٹن: کورونا وائرس کی وبا کے پھوٹنے اور اس سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے باوجود تیل کی سپلائی مانگ سے کہیں زیادہ ہے اور اس باعث امریکی خام تیل کو ذخیرہ کرنے کی جگہیں تقریباً بھر چکی ہیں اور ان میں مزید تیل رکھنے کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔

صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امریکی تیل کی قیمت تاریخ میں پہلی مرتبہ صفر ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے گر چکی ہے۔

مگرامریکی خام تیل کی قیمتوں کا منفی ہونے کا مطلب کیا ہے؟ آئیے ہم بتاتے ہیں ۔۔۔۔

ماہرین کہتے ہیں کہ تیل کی قیمت منفی ایک ڈالر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تیل لینے والے کو تیل کے ساتھ ایک ڈالر بھی دیا جائے گا۔

تیل کی قیمتوں کا دارومدار اس کے معیار، سپلائی اور ڈیمانڈ پر ہوتا ہے۔  کورونا وائرس اور اس کے نتیجے میں نقل و حمل پر پابندیوں کے باوجود امریکی خام تیل کی سپلائی مانگ سے کہیں زیادہ رہی ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ اس کو ذخیرہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکہ میں توانائی کے شعبے سے متعلق معلومات دینے والے ادارے کا کہنا ہے کہ اوکلا ہاما شہرمیں واقع تیل کی ذخیرہ گاہ (کشنگ)  10 اپریل تک  72 فیصد تک بھر چکی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

تیل کی قیمتوں میں تاریخی گراوٹ کے بعد یورپی و خلیجی سٹاک مارکیٹس میں مندی

روس کا سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے والے میزائل کا تجربہ، خلا میں خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے: امریکا 

گھریلو صارفین کو مارچ کے گیس بل قسطوں میں جمع کرانے کی اجازت

 تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کا تعلق اس کے کاروبار کے طریقہ کار سے ہے جو کہ فیوچر کنٹریکٹس کی بنیاد پر چلتا ہے۔

ایک فیوچر کنٹریکٹ میں خام تیل کی مقدار کم و بیش 1000 بیرل ہوتی ہے اور یہ تیل کشنگ میں منتتقل کیا جاتا ہے جہاں توانائی کمپنیوں کے ذخائر موجود ہیں اور ان میں 76 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔

ہر فیوچر کنٹریکٹ کی مدت ایک ماہ ہوتی ہے اور مئی کے فیوچر کنٹریکٹ 21 اپریل  2020 کو ختم ہوگئے تھے مگر سرمایہ کارمانگ نہ ہونے کی وجہ سے اس تیل کی ڈلیوری نہیں لینا چاہتے تھے یوں بڑی مقدار میں تیل ذخیرہ کرنے کے اخراجات سے جان چھڑانے کے لیے انہیں لوگوں کو پیسے دیکر تیل فروخت کرنا پڑا۔

تاہم جون کے کنٹریکٹ ابھی ایک ماہ دور ہیں اور یہ ابھی بھی 20 ڈالر فی بیرل کے عوض فروخت ہو رہا ہے مگر قیمتوں میں کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے۔

تاہم کشنگ میں کریش ہونے والی تیل کی قیمتوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ پٹرول پمپوں پر بکنے والے تیل کی قیمتیں بھی دھڑام سے گر جائیں گی۔

تیل کی قیمتوں میں ہونے والی اس کمی سے ایک عام امریکی خاندان کو تیل کی مد میں ہونے والے اخراجات میں اس ماہ 150 سے 175 ڈالر کی بچت ہوگی جبکہ ائیرلائنز جو کہ پہلے ہی کورونا کے باعث پروازیں تقریباً خالی چلا رہی ہیں کو بھی اس سے کسی حد تک فائدہ ہوگا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر تیل کی مانگ وائرس سے پہلے والی سطح پر واپس چلی بھی جائے تو بھی ذخیرہ شدہ تیل کے ختم ہونے میں وقت لگے گا تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ڈیمانڈ کی  جلد بحالی کے کوئی امکانات نہیں ہیں کیونکہ اس کا دارومدار کورونا وائرس کے مکمل خاتمے میں ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here