آٹا چینی سکینڈل کے بعد پاور سیکٹر میں کرپشن کی انکوائری رپورٹ بھی پبلک کرنے کا فیصلہ

تحقیقاتی رپورٹ میں نامزد حکومتی شخصیات کے دفاع کے معاملے پر وزیراعظم اور کابینہ میں اختلاف، فرانزک آڈٹ اور مزید تحقیقات کے کمیشن بنانے کی بھی منظوری دے دی گئی جو 90 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا

336

اسلام آباد: وفاقی کابینہ میں شعبہ توانائی میں گھپلوں اور نقصانات کے حوالے سے رپورٹ میں مورد الزام ٹھرائی گئی حکومتی شخصیات کے دفاع کے معاملے پر اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے  کابینہ کوہدایت کی گئی تھی کہ معاملے کا فرانزک تجزیہ آنے تک تحقیقاتی رپورٹ میں ذمہ دار ٹھرائے جانے والی حکومتی شخصیات کا دفاع کیا جائے۔

 رپورٹ کے مطابق گزشتہ 13  برسوں میں پاور سیکٹر کو دی جانے والی سبسڈی اور گردشی قرضوں کی وجہ سے قومی خزانے کو 4 کھرب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی 16 نجی کمپنیوں نے 60 ارب کی سرمایہ کاری کے ذریعے دو سے چار سالوں میں 400 ارب کا منافع کمایا۔

رپورٹ کابینہ کے سامنے آنے پر وزیراعظم  عمران خان نے وزراء کو فرانزک آڈٹ آنے تک کوئی مؤقف لینے سے روک دیا البتہ کابینہ کی جانب سے رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں وزیر اعظم عمران خان کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، مشیر پٹرولیم ندیم بابر، وزیر توانائی عمر ایوب خان اور معاشی امور کے وزیر خسرو بختیار کا نام شامل ہے۔

 رپورٹ میں عبدالرزاق داؤد اور ندیم بابر کو آئی پی پیز کو کی جانے والی ادائیگیوں کا  براہ راست وصول کنندہ قرار دیا گیا ہے جبکہ عمر ایوب اور خسرو بختیار کے رشتے داروں کا نام بھی ان ادائیگیوں سے فائدہ اُٹھانے والے افراد میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

نیب نے آٹا چینی سکینڈل کی تحقیقات شروع کردیں

وزیراعظم عمران خان پر چینی، گندم بحران کی فرانزک رپورٹ سامنے لانے پر دباؤ بڑھنے لگا

میری کمپنی نے اپنے مارکیٹ شئیر سے کم چینی برآمد کی، جہانگیر ترین کی وضاحت

وزیر اعظم نے کابینہ کوشعبہ توانائی میں مبینہ کرپشن کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا یقین دلاتے ہوئے ہدایت کی کہ جب تک حتمی رپورٹ نہیں آجاتی تب تک کسی کا نام منظر عام پر نہیں آنا چاہیے ۔

تاہم کابینہ کے 14 ارکان نے اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں مورد الزام ٹھرائی گئی شخصیات کا دفاع کسی طور نہیں کرنا چاہیے۔

وزیراعظم سے اختلاف کرنے والوں میں حکومت کے اتحادی  شیخ رشید احمد اور طارق بشیر چیمہ بھی شامل ہیں۔

 تاہم پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان  نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’’ کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے خواہ حکومت سے ہوں یا اپوزیشن سے، قومی اسمبلی کے رکن ہو یا سینیٹ کے، وفاقی کابینہ کے رکن ہوں یا نہ، انہیں چاہیے کہ وہ متعلقہ فورم کے سامنے پیش ہوں اور خود کو کلئیر کروائیں، میڈیا کے سوالات کا جواب دیں اور پھر بات کریں۔‘‘

وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کاببنہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہنا تھا کہ کابینہ نے شعبہ توانائی کی انکوائری رپورٹ پبلک کرنےکی منظوری دے دی ہے اور ایسا وزیر اعظم عمران خان کے ملک سے کرپشن کےخاتمے کے عزم کے تحت کیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ توانائی کے شعبے میں جن نجی کمپنیوں اور منصوبوں کے بارے میں تحقیقات ہورہی ہیں انکا تعلق پچھلی حکومت سے ہے اور ان میں سے کوئی بھی منصوبہ موجودہ حکومت کا شروع کیا ہوا نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت تمام انکوائریوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پر عزم ہے اور اس بار کوئی بھی گنہگار بچ نہیں پائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ نے معاملے پر مزید سفارشات کے لے لیے کمیشن بنانے کی منظوری بھی دے دی ہے اور اس حوالے سے ٹرمز آف ریفرنس تیار کیے جارہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کا سربراہ وزیراعظم چنیں گے اور اس کا تعلق حکومت سے نہیں ہوگا۔ کمیشن تحقیقاتی رپورٹ کا آڈٹ اور مزید تحقیقات کرنے کا مجاز ہوگا اور یہ 90 دن میں اپنی سفارشات پیش کرنے کا پابند ہوگا۔

اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ انکوائری کمیشن کی جانب سے شعبہ توانائی میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے بعد معاون خصوصی برائے معدنیات شہزاد قاسم کی سربراہی میں کمیٹی اس حوالے سے سفارشات تیار کرے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here