کابینہ کمیٹی کا شعبہ توانائی میں نقصانات کے ذمہ داروں سے جوابدہی کا فیصلہ

گھپلوں اور نقصانات کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کیساتھ حقیقی سرمایہ کاروں کی بدنامی کی روک تھام نہایت ضروری، وزارت توانائی اصلاحات پر کام تیز کرے: کابینہ کمیٹی برائے توانائی

262

اسلام آباد: کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاور سیکٹر میں غیر قانونی کاموں کے مرتکب افراد کو گرفت میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ وزیر برائے منصوبہ بندی و اصلاحات اسد عمر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پاور سیکٹر میں نقصانات کے حوالے سے انکوائری رپورٹ  کا جائزہ لیا گیا اور یہ طے پایا کہ جہاں غیر قانونی کاموں کے مرتکب افراد کو گرفت میں لایا جانا چاہیے وہیں حقیقی  سرمایہ کاروں کو بدنام کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی بھی ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے شعبہ توانائی میں گھپلوں اور نقصانات کے معاملے پر سکیورٹیز اینڈ ایکسچیج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چئیرمین کی سربراہی میں نو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں شعبہ توانائی میں اربوں کے گھپلوں اور نقصانات کا انکشاف کرتے ہوئے انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (ائی پی پیز )  سے سو ارب روپے واپس لینے کی سفارش کی تھی ۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا، بجلی بلوں کی ادائیگی میں رعایت کا معاملہ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاق سے جواب مانگ لیا

گھریلو صارفین کو مارچ کے گیس بل قسطوں میں جمع کرانے کی اجازت

کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا تیل سٹوریج کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی ہدایت

اسد عمر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کمیٹی کو پٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کورونا کے تیل اور گیس کے شعبہ جات پر اثرات اور ایل این جی کی سپلائی سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ ملکی ڈیمانڈ کے پیش نظر ایل این جی سپلائرز سے سودوں کے شیڈول کے حوالے سے رابطے میں رہا جائے۔

مزید برآں کمیٹی کو شعبہ توانائی میں دو طرفہ مسابقتی تجارت کی مارکیٹ کے متعارف کروائے جانے بارے بھی بریفنگ دی گئی۔

کمیٹی نے پاور ڈویژن اور نیپرا کو منصوبے کے ڈیزائن میں خامیوں کا جائزہ لینے اور منصوبے کو بروقت مکمل کرکے منظوری کے لیے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

کمیٹی کو شعبہ توانائی میں نجکاری کے حوالے سے پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا جس پر کمیٹی نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے کسی بھی فیصلے کےلیے کابینہ کی کمیٹی برائے نجکاری سے رابطہ کیا جائے۔

مزید برآں کمیٹی کو شعبہ توانائی میں اصلاحات بارے بھی آگاہ کیا گیا جس پر اس نے متعلقہ وزارت کو اس حوالے سے کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here