مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حبیب میٹروپولیٹن بینک کی آمدن میں پانچ فیصد کمی

448

کراچی: حبیب میٹروپولیٹن بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 31 مارچ 2020 تک ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کی مالی کارکردگی کا اعلان کر دیا ہے۔

حبیب میٹروپولیٹن بینک کے مطابق مارچ 2020 کے اختتام تک ٹیکس ادائیگی کے بعد بینک کی آمدن میں 1.64 ارب روپے اضافہ ہوا ہے، گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران مذکورہ آمدن 1.56 ارب روپے رہی تھی، سالانہ اعتبار سے بینک کی آمدن میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تاہم، 2019 کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں بینک کی آمدن میں ٹیکس ادائیگی کے بعد 4.9 فیصد کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران بینک کی فی شئیر آمدن 1.41 روپے ریکارڈ کی گئی تھی جو رواں سال 1.48 روپے ہوگئی ہے۔

فی شئیرآمدن میں معمولی اضافے کے باوجود بینک کی آمدن تجزیہ کاروں کی توقعات سے کم ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیے:

2019ء کے اختتام پر حبیب بینک کو 15.5 ارب ، یوبی ایل کو 20.7 ارب روپے منافع ہوا

حبیب بینک کی اپنے ملازم کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی تردید

اے کے ڈی کی ریسرچ رپورٹ مطابق “نتیجہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ری فنانس سکیموں کے تحت متوقع قرض سے زیادہ کم تھا جس سے آمدنی پر زیادہ شرح سود کا اثر محدود ہوا”۔

سہ ماہی کے اعتبار سے مجموعی سود کی آمدن میں 4.9 فیصدکم ہونے کی وجہ زیادہ لاگت کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ مجموعی سود کی آمدنی گزشتہ سہ ماہی میں 4.44 ارب روپے سے کم ہو کر مذکورہ سہ ماہی میں 4.48 ارب روپے تک آگئی تھی یعنی چھ فیصد کم ہوئی۔ اس سہ ماہی میں دستیابی کی لاگت میں گزشتہ سہ ماہی کی نسبت 124 ملین روپے سے بڑھ کر 484 ملین روپے ہو گئی ہے۔

بینک کی بلا سود آمدن میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ غیرملکی زرِمبادلہ کی آمدن میں اضافہ ہے، تجزیہ کاروں نے فیس کی آمدن میں کمی کی وجہ لاک ڈاؤن کو قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نہ صرف اس سہ ماہی کے نتائج توقع سے کم رہے بلکہ گزشتہ برس کی مالی کارکردگی بھی مایوس کن تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here