خیبر پختونخوا میں لاک ڈاؤن جاری رہنے کی صورت میں 13 لاکھ نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ

ٹرانسپورٹ اور سٹوریج سیکٹر میں 3 لاکھ 59 ہزار 393، تعمیراتی شعبے میں 2 لاکھ 95 ہزار 594، پیداواری شعبے میں 2 لاکھ 58 ہزار 664 اور ہول سیل کے شعبے میں 2 لاکھ 16 ہزار 252 نوکریاں ختم ہوجائینگی: حکومتی رپورٹ

115

پشاور: خیبر پختونخواہ حکومت نے صوبے میں 45 روزہ لاک ڈاؤن کی صورت میں 13 لاکھ افراد کا روزگار ختم ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا۔

اس بات کا انکشاف ایک رپورٹ میں کیا گیا جس کے مطابق صوبے میں 4 لاکھ  60 ہزار افراد یومیہ اجرت یا دیہاڑی دار ہیں اور لاک ڈاؤن کا ان کے روزگار پر فوری اثر پڑے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث صوبے کی معیشت کمزور ہوگی اور یہ جاری مالی سال کے دوران شرح نمو 3.73 فیصد سے کم ہوکر 2.9 فیصد رہ جائے گی جبکہ جی ڈی پی بھی 13 لاکھ 35  ہزار  942 ملین روپے سے کم ہوکر 13 لاکھ  16  ہزار  160ملین روپے پر آجائے گی۔

رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث ٹرانسپورٹ اور سٹوریج سیکٹر میں 3 لاکھ  59  ہزار  393، تعمیراتی شعبے میں 2 لاکھ  95 ہزار 594، پیداواری شعبے میں  2 لاکھ   58 ہزار 664 اور ہول سیل کے شعبے میں 2 لاکھ 16 ہزار 252 نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں۔

مزید برآں لاک ڈاون کے صوبے پر معاشی اثرات کے حوالے سے تیار کی جانے والی اس رپورٹ  میں خبردار کیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن چھ ماہ تک جاری رہنے کی صورت میں 27 لاکھ جبکہ ایک سال تک جاری رہنےکی صورت میں 42 لاکھ نوکریاں ختم ہوسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس: سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کا مطالبہ کردیا

ٹیکس دہندگان صنعتوں کا حکومت سے غیرقانونی کاروباروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا مطالبہ

کورونا وائرس: آئی ایم ایف نے ایف بی آر کا ٹیکس آمدن کا ہدف 895 ارب روپے کم کردیا

لاک ڈاؤن کے معاشی اثرات سے نمٹنے کی حکمت عملی کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے تقریباً 15 لاکھ خاندانوں کو وفاقی حکومت کے احساس پروگرام کے تحت 12 ہزار روپے ملیں گے۔

تاہم اس کے باوجود اُن خاندانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو احساس پروگرام کے مستحقین کی کیٹگری میں تو نہیں آتے مگر کورونا وائرس انہیں معاشی طور پر شدید متاثر کرے گا۔

ایسے خاندانوں کے لیے ویلج کونسل کی سطح پر ایک کمیٹی بنانے اور اس کے ذریعے چھ ہزار روپے فی خاندان امداد دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

مزید برآں رپورٹ میں کنسٹرکشن، ہول سیل، ریٹیل اور ٹرانسپورٹ سیکٹرز کو ٹیکس استثنی کا اہل قرار دیا گیا ہے۔

اسکے علاوہ کاروباروں کو سرمائے کی کمی جیسی مشکلات سے بچانے کے لیے قرض ادائیگیاں تین ماہ کے لیے مؤخر کرنے اور 31 مارچ کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے سود کی ادائیگی کی تاریخ 15 اپریل کی بجائے 15 جون تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

مزید برآں گریڈ 1 سے 17 کے سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہوں کی ادائیگی اور چھوٹے کاروباروں کے یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی تین ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here