کورونا وائرس: آئی ایم ایف نے ایف بی آر کا ٹیکس آمدن کا ہدف 895 ارب روپے کم کردیا

کمی کے بعد ایف بی آر کو مالی سال 2019-20 میں 4 ہزار 803 ارب کے بجائے 3 ہزار 908 ارب روپے اکھٹے کرنا ہونگے، عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے پاکستان کے لیے 1.38 ارب ڈالر کا ہنگامی قرض بھی منظور

312

اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) نے کورونا وائرس کے پیش نظر فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ٹیکس ہدف میں 895 ارب روپے کمی کردی۔

اب ایف بی آر کو مالی سال 2019-20 میں 4 ہزار 803 ارب کے بجائے 3 ہزار 908 ارب روپے جمع کرنا ہوں گے۔

ایف بی آر نے رواں مالی سال کیلئے ٹیکس آمدن کا اصل ہدف 5 ہزار  555 ارب روپے مقرر کیا تھا تاہم پہلی دو سہ ماہیوں میں خراب کارکردگی کی وجہ سے آئی ایم ایف نے نظر ثانی کے بعد ٹیکس کا سالانہ ہدف 4 ہزار 803 ارب روپے مقرر کردیا گیا تھا۔

عالمی مالیاتی ادارے  کی جانب سے ایک رپورٹ میں  ایف بی آر کی مستقبل کی ٹیکس آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو مالی سال 2020-21  میں 5 ہزار 101 ارب، مالی سال 2021-22 میں 6 ہزار ایک سو ارب، مالی سال 2022-23 میں چھ ہزار 956 ارب، مالی سال 2023-24 میں 7 ہزار 723 ارب جبکہ مالی سال 2024-25 میں 8 ہزار  513 ارب کا ٹیکس اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

آئی ایم ایف کی جانب سے 1.4 ارب ڈالر امداد کی منظوری کے بعد روپے کی قدر میں بہتری

ملازمین کو نوکریوں سے نہ نکالیں: اسٹیٹ بنک نے کاروبار مالکان کے لیے نئی قرض سکیم متعارف کروادی

آئی ایم ایف نے پاکستان سمیت 76 ممالک کے قرضے ایک سال کیلئے منجمد کردئیے

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ  کورونا وائرس کے باعث بڑھنے والے حکومتی اخراجات  8 ہزار 767 ارب سے بڑھ کر 8 ہزار 883 ارب روپے ہوجائیں گے جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ اخراجات 12 ہزار 577 ارب روپے ہونگے۔

رپورٹ میں آئی ایم ایف کے واجب الادا قرض سمیت حکومت کے مجموعی قرضوں کے 85 فیصد بڑھنےکا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مقامی قرض 53.8 فیصد جبکہ بیرونی قرض 31.5 فیصد بڑھے گا۔

رپورٹ میں کورونا وائرس کی وبا سے پہلے پاکستان کی معاشی حالت میں بہتری کی بات کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2020 کے لیے شرح نمو کا  اندازہ  2.4 فیصد تھا اور مالی سال 2021 میں اس میں تین فیصد اضافے کا امکان تھا جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4.9 فیصد سے کم ہو کر 2.2 فیصد ہونے کا امکان تھا۔

اس کے علاوہ زرمبادلہ کے ذخائر 12.5 ارب ڈالر تک پہنچنے اور مالی سال 2021  کے آخر تک مہنگائی کی شرح کم ہو کر 5-7 فیصد ہوجانے کا امکان تھا۔

 رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات آنے والے دنوں میں سنگین ہونگے کیونکہ عالمی سطح پر لاک ڈاؤن کے باعث ملکی برآمدات اور ترسیلات زر میں کمی ہوگی جبکہ ملک میں لاک ڈاؤن کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثرہونگی۔

مزید برآں آئی ایم ایف نے کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے مشکل حالات میں پاکستان کی معیشت کوسہارا دینے کے لیے مزید 1.38 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دے دی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here