وزیراعظم عمران خان پر چینی، گندم بحران کی فرانزک رپورٹ سامنے لانے پر دباؤ بڑھنے لگا

238

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) کی چینی اور گندم بحران سے متعلق فرانزک آڈٹ رپورٹ 25 اپریل تک سامنے لانے پر دباؤ بڑنے لگے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے تحت  انٹیلی جنس بیور (آئی بی) کے سینئر افسر اور اینٹی کرپشن پنجاب ڈی جی پر مشتمل دو اعلیٰ اختیاراتی کمیٹیاں تشکیل دی تھیں جو مذکورہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے کی وجوہات پر تفتیش کر رہی ہیں۔

مذکورہ کمیٹیوں کی تشکیل کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بار بار ذمہ داروں کو بے نقاب کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا اور قانون کے مطابق سزا دینے کا بھی دعویٰ کیا تھا تاکہ پھر کبھی ایسے عوامل سے بچا جا سکے۔

وزیراعظم عمران خان پر سیاسی جماعتوں کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے جو عمران خان پر ٹاپ شوگر ملز مالکان کو سبسڈی دینے سے متعلق مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام عائد کر رہی ہیں۔

یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ کمیشن کے سربراہ اور ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کو تفتیش روکنے کا مشورہ بھی دیا گیا کیونکہ چینی کی قیمت 110  روپے فی کلو تک لے جانے کی دھمکی بھی دی گئی، واجد ضیا نے وزیراعظم آفس کو انہیں ملنے والی دھمکیوں سے متعلق آگاہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیے:

صوبائی حکومتیں گندم بحران اور نقصانات سے متعلق وفاق کو رپورٹ جمع کرانے میں ناکام

چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ یکطرفہ اور پراپیگنڈا پر مبنی ہے

وزیراعظم کا آٹا، چینی بحران تحقیقاتی کمیشن کے ارکان کو دھمکیاں دینے پر اظہار برہمی

چینی بحران پرایف آئی اے رپورٹ سازش، عمران سے پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے: جہانگیر ترین

فرانزک رپورٹ آئندہ ہفتے وزیراعظم عمران خان اور ڈی جی ایف آئی اے کو چینی بحران سے متعلق تفتیش جلد روکنے پر دھمکیوں کے باوجود منظرِ عام پر لائی جا رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں موجود ذرائع نے پاکستان ٹودے کو بتایا کہ ڈی جی ایف آئی اے کو دھمکیوں سے متعلق رپورٹ پر پی ٹی آئی رہنما جہانگیر خان ترین نے وزیراعظم سے رابطہ کیا ہے اور صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ واجد ضیا کو دھمکیوں سے متعلق انکا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ “ترین نے ایک پیغام بھی بھیجا ہے کہ رپورٹ جیسی بھی ہو وہ تسلیم کریں گے۔ تاہم جہانگیر ترین نے وزیراعظم کو یقین دلایا ہے کہ بحران میں انکے ہاتھ صاف ہیں اور رپورٹ میں انہیں قصوروار ثابت کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے”۔

ذرائع نے مزید کہا کہ مخدوم خسرو بختیار نے بھی واضح کیا ہے کہ نہ ہی وہ اور نہ ہی انکے خاندان میں سے کسی نے سبسڈی سے فائدہ اٹھایا ہے، خسرو بختیار پر بھی چینی بحران میں ملوث ہونے الزام ہے۔

“دلچسپ بات یہ ہے کہ جب چینی اور گندم کے پیداواروں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا توخسرو بختیار وزارتِ منصوبہ بندی اور ڈویلپمنٹ کے پورٹ فولیو ہولڈر تھے، مذکورہ وزارت کا سبسڈی دینے سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ حقیقت میں نیشنل فوڈ اینڈ سکیورٹی کے وزیر مخدوم محبوب سلطان تھے۔ اس کے علاوہ خسرو بختیار کے بھائی ہاشم جوان بخت نے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ بلکہ، ہاشم خان نے بھی چینی برآمد کرنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اس فیصلے کے ساتھ اختلافی نوٹ چسپاں کیا ہے”۔

دوسری جانب  وزیراعظم عمران خان پر آنے والے مہینوں میں لاک ڈاؤن میں  مختلف انڈسٹریز کو استثنیٰ اور نرمی پر  دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here