میزان بینک کا ملازمین کے لیے ‘ماسک رُول’ نافذ، خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ

کئی بار تمام تر کوششیں کرنے کے باوجود ملازمین حفظان صحت پر عمل نہیں کر رہے اور نہ ہی کورونا وائرس کو سنجیدہ لے رہے ہیں، اسی لیے ماسک رُول نافذ کیا ہے، خلاف ورزی پر مختلف ملازمین کو مختلف نوعیت کے جرمانے ہوں گے، ڈپٹی سی ای او عارف الاسلام

73

کراچی: میزان بینک نے کورونا وائرس کو سنجیدگی سے لینے کے لیے اپنے ملازمین کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دیا ہے، خلاف ورزی کرنے والے بینک ملازم کو جرمانہ کیا جائے گا۔ 

میزان بینک کے میمو کے مطابق یہ ‘ماسک رُول’ سے جانا جائے گا، جس کے تحت سٹاف کو لازمی طور پر ماسک پہننا چاہیے جو مناسب طریقے سے ناک اور منہ ڈھانپ دیتا ہے، میمو پر ڈپٹی سی ای او عارف الاسلام نے دستخط کیے ہیں۔

اگر ملازمین عمل نہیں کریں گے تو انہیں پینلٹی سسٹم کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلی بار خلاف ورزی کرنی کی صورت میں آفس بوائز، رائڈرز اور سٹاف کو ایک ہزار روپے جرمانہ، ایریا مینجر کو دو ہزار روپے، اسٹنٹ نائب صدر اور نائب صدر کو پانچ ہزار روپے جرمانہ، سینئر نائب صدر اورایگزیکٹو نائب صدر کو 15 ہزار روپے، سینئر ایگزیکٹو نائب صدر کو 20 ہزار روپے اور صدر سی ای او کو 50 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

دوسری بار خلاف ورزی کی صورت میں آفس بوائز، رائڈرز اور سٹاف کو 12 ہزار روپے جرمانہ، ایریا مینجر کو چار ہزار، اسٹنٹ نائب صدر اور نائب صدر کو 10 ہزار روپے، سینئر نائب صدر اور ایگزیکٹو نائب صدر کو 30 ہزار، سینئر ایگزیکٹو نائب صدر کو 40 ہزار روپے اور صدر اور سی ای اوز کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: 

بینک الفلاح کی مختلف برانچز میں کورونا کے 23 مشتبہ ملازمین، لاہور میں شاہ دین منزل برانچ بند

سٹیٹ بینک کے پاس زرِمبادلہ ذخائر 252 ملین ڈالر اضافے سے 10.9 ارب ڈالر ہو گئے

میزان بینک نےکہا ہے کہ تیسری بار خلاف ورزی کی صورت میں قواعد و ضوابط کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ جرمانہ کی گئی رقم ملازمین کی تنخواہوں میں سے کاٹ کر احسان ٹرسٹ اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں گی جو کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کو راشن پہنچائیں گے۔ بینک کی ہر شاخ میں ماسک رُول کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں کی جائے گی۔

یہ قانون 20 اپریل سے میزان بینک کے ہیڈ آفس میں لاگو کیا جائے گا اور 21 اپریل کو تمام برانچز میں لاگو کیا جائے گا۔

  بینک کے اس اقدام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈپٹی سی ای او عارف نے کہا کہ ہم نے کئی بار سٹاف کے لیے حفظانِ صحت کے اصول اپنانے کے لیے مختلف ہدایات جاری کیں جو وائرس پھیلنے سے روکنے کے لیے اختیار کرنا لازمی تھیں۔ بدقسمتی سے ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود یہ دیکھا گیا کہ تمام سطح کے ملازمین مذکورہ ہدایات پر عمل پیرا نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ بینک کی جانب سے دیگر حفظانِ صحت کے اصول اپنانے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ بینک لازمی انڈسٹری ہیں اور پاکستان بھر میں لاک ڈاؤن کے باوجود کھلے رکھے جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ تاہم، زیادہ تر بینک ضروری سٹاف کے ساتھ ہی کام کر رہے ہیں۔ بینکوں کی جانب سے کام کرنے کا دورانیہ بھی کم کر دیا گیاہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے شہریوں کو آن لائن بینکنگ استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی تاکہ شہری بینکوں کا چکر کم لگائیں اور زیادہ سے زیادہ محفوظ رہ سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here