شرح سود میں 200 پوائنٹس کی کمی، حکومت کو 1 کھرب روپے کی بچت ہوگی: حفیظ پاشا

حالات نہ سدھرے تو شرح سود میں مزید کمی ہوگی، لاک ڈاؤن چند مہینے جاری رہا تو چالیس لاکھ لوگوں کا روزگار ختم ہوسکتا ہے، جی ڈی پی کی شرح نمو کے منفی 1.5 ہونے کے معیشت پر ہولناک اثرات ہونگے: سابق وفاقی وزیر خزانہ

247

کراچی: سابق وزیر خزانہ اور ممتاز معاشی ماہر ڈاکٹر حفیظ پاشا نے سٹیٹ بنک کی جانب سے شرح سود میں حالیہ کمی کو حکومت کے لیے راحت کا سامان قرار دیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ شرح سود میں 200 بیسز پوائنٹس کی مزید کمی سے حکومت کو 1 کھرب روپے کا فائدہ ہوگا جس سے  کورونا کے پیدا کردہ حالات سے نمٹنے کے مزید اقدامات کیے جاسکیں گے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان عارف نظامی کیساتھ گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی صورتحال جاری رہنے کی صورت میں حکومت کوعوام کو ریلیف دینے کے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔

انہوں نے حالات بہتر نہ ہونے کی صورت میں شرح سود میں مزید کمی کی پیشگوئی بھی کی۔

کورونا کے معاشی قہر کے باعث جی ڈی پی کی شرح نمو منفی ہونے کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ ایسا 7 دہائیوں میں پہلی بار ہوگا اور اسکے معیشت پر اثرات بھی انتہائی ہولناک ہونگے۔

انکا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے باعث صنعتیں بند ہونے سے برآمدات کے چالیس سے پچاس فیصد آرڈر ختم ہوجائینگے اورصورتحال کے باعث براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اگر لاک ڈاؤن مزید کچھ مہینے جاری رہا تو چالیس لاکھ لوگوں کا روزگار ختم ہوجائے گا جبکہ ملک میں اتنے ہی لوگ پہلے ہی بیروزگار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

اسٹیٹ بنک نے ترسیلات زر کی مارکیٹنگ اسکیم میں تبدیلی کردی

شرح سود میں کمی، قرضوں میں ریلیف کا سٹاک مارکیٹ پر مثبت اثر، انڈیکس 32 ہزار کی حد عبور کر گیا

کیا پاکستانی معیشت میں کیش کے بڑھنے کی کوئی امید ہے؟

انہوں نے حکومت کی جانب سے موجودہ حالات کے پیش نظر معاشرے کے کمزور اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کے لیے ریلیف اقدامات کی تعریف کرتے ہو کہا کہ اگر آئندہ مہینوں میں حالات بہتر نہ ہوئے تو حکومت کو لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے ایک اور پیکج دینا پڑے گا۔

واضح رہے کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے کورونا کے معاشی اثرات سے مقابلے کے لیے شرح سود میں 200 پوائنٹس کی مزید کمی کی گئی ہے جس کے بعد یہ 11 سے 9 فیصد پرآگئی ہے۔

مرکزی بنک کی جانب سے کورونا کے معاشی اثرات کے دنوں میں کاروباری حلقوں اور عوام کے لیے سرمائے کے حصول کو آسان بنانے کے لیے 30 دن میں شرح سود میں تین دفعہ کمی کی گئی۔

پہلی مرتبہ 17 مارچ 2020 کو شرح سود میں75  بیسز پوائنٹس کی کمی کے بعد اسے 13.25 فیصد سے کم کرکے ساڑھے 12 فیصد کیا گیا پھر 24 مارچ کو اس میں مزید کمی کرکے اسے گیارہ فیصد پر لایا گیا اور اب 16 اپریل کو اسے نو  فیصد پر لایا گیا ہے۔

مزید برآں سٹیٹ بنک کا عالمی مالیاتی اداروں کے اندازوں کی توثیق کرتے ہوئے کہنا ہے کہ رواں برس پاکستان کی جی ڈی پی  کی شرح نمو منفی 1.5 فیصد رہے گی  جبکہ مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد رہے گی جو اگلے برس کم ہو کر 7 سے 9 فیصد ہونے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here