18 کمپنیوں اور شوگر ملوں کو ذاتی پاور پلانٹس لگانے کی اجازت مل گئی

منصوبے 2021-22 تک بجلی کی پیداوار شروع کردیں گے، 2025 تک ملکی ضرورت کی 20 فیصد بجلی قابل تجدید توانائی سے حاصل کی جائے گی

336

اسلام آباد: متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ نے 18 کمپنیوں اور شوگر ملوں کو 653 میگا واٹ کے بجلی گھر لگانے کے لیے لیٹر آف سپورٹ اور لیٹر آف انٹینٹ جاری کردیے۔

ذرائع کے مطابق یہ منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں اور 2021 یا 2022 تک ان سے بجلی کا حصول شروع ہوجائے گا۔

رحیم یار خان میں 74.4 میگاواٹ کا اتحاد پاور جنریشن نامی منصوبہ زیر تعمیر ہے اور یہ 2021 تک بجلی کی فروخت شروع کردے گا۔

اسی طرح لیٹر آف سپورٹ حاصل کرنے والے پاور پلانٹس میں 32 میگا واٹ کا  شاہ تاج شوگر ملز لمیٹڈ، 49.8 میگاواٹ کا ہنزہ پاور،  31.2 میگا واٹ کا بہاولپور انرجی منصوبہ اور 31 میگا واٹ کا انڈس انرجی منصوبہ شامل ہے۔

اس کے علاوہ 31.2 میگاواٹ کا اتفاق پاور، 40 میگا واٹ کا  کشمیر پاور، 30 میگاواٹ کا الائنس شوگر ملز، 25 میگاواٹ کا رحیم یار خان انرجی،  48.9 میگاواٹ کا ٹو سٹار انڈسٹریز، 30 میگا واٹ کا ٹی اے وائے پاور جن کمپنی، 30 میگا واٹ کا حمزہ شوگر ملز(یونٹ 2)، 26.5 میگاواٹ کا فاران پاور، 30 میگاواٹ کا شیخو پاور، 26.5 میگاواٹ کا مہران انرجی اور 26.5 میگاواٹ کا حبیب شوگر ملز شامل ہیں۔

یہ منصوبے رحیم یار خان، منڈی بہاؤالدین، جھنگ، بہاولپور، گھوٹکی، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ٹنڈو اللہ یار، ٹنڈو محمد خان، مظفر گڑھ اور نوابشاہ کے علاقوں میں لگائے جائیٓں گے۔

یہ بھی پڑھیے:

میپکو نے بجلی بلوں کی تاریخ میں توسیع کے باوجود 25 ٹیکسٹائل ملز کی بجلی منقطع کر دی

گھریلو صارفین کو مارچ کے گیس بل قسطوں میں جمع کرانے کی اجازت

متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ نے 11 ونڈ پراجیکٹس کی منظوری دے دی

ذرائع کے مطابق لیٹر آف انٹینٹ 45 میگاواٹ کے صادق آباد اور گھوٹکی پاور کو جاری کیے گئے ہیں۔

متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ نے قابل تجدید توانائی کے حوالے سے 2006 میں بنائی جانے والی پالیسی مارچ  2018 میں ختم ہونے کے بعد اس حوالے سے گزشتہ برس نئی پالیسی تشکیل دی تھی۔

نئی پالیسی کا مقصد متبادل توانائی کے شعبے کی ترقی کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل ہے۔ یہ پالیسی متبادل توانائی کے تقسیم کے نظام، آف گرڈ سلوشن، کاروباری طریقہ کار اور دیہات میں توانائی فراہم کرنے کے معاملات کا احاطہ کرتی ہے۔

مزید برآں اس پالیسی میں 2025ء  تک ملکی ضرورت کی بجلی کی کل پیداوار کا 20 فیصد حصہ متبادل توانائی کے ذریعے حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

یہ پالیسی صوبوں کے تعاون سے ملک کے تمام حصوں میں متبادل توانائی کے منصوبوں کے قیام کی خواہش کے اظہار کیساتھ ان منصوبوں کے قیام کے طریقہ کار کی بھی وضاحت کرتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here