16 ٹرینیں نجی شعبے کے حوالے، پاکستان ریلوے کا منصوبہ حتمی مرحلے میں داخل

10 مسافر اور 6 مال بردار ٹرینیں آؤٹ سورس کی جائیں گی، ابتدائی طور پر فرید ایکسپریس، جناح ایکسپریس، اور لاثانی ایکسپریس نجی شعبے کے حوالے کی جائیں گی، کئی پارٹیوں نے منصوبے میں دلچسپی ظاہر کردی: ذرائع

138

اسلام آباد: پاکستان ریلوے نے ادارے کو منافع بخش بنانے کے لیے 16  ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی۔

ذرائع نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ 10 مسافر اور 6 مال بردار ٹرینیں نجی شعبے کو دینے کے حوالے سے ضروری کاروائی حمتی مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پرلاہور اور سیالکوٹ کے درمیان براستہ نارووال چلنے والی لاثانی ایکسپریس، کراچی اور لاہور کے درمیان چلنے والی فرید ایکپریس اور جناح ایکسپریس کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔

جس کے بعد اگلے مراحل میں مزید سات ٹرینیں آؤٹ سورس کی جائیں گی۔ ذرائع کا دعویٰ تھا کہ منصوبے کے لیے کئی پارٹیوں کی جانب سے دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

9 ماہ میں 11 پیسنجر اور 4 فریٹ ٹرینیں متعارف کروائی گئیں

کورونا وائرس: تیل کی عالمی صنعت سے وابستہ 300 ملین افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق

عبدالرزاق داؤد کی کاریں بنانے والی کمپنیوں الفطیم اور رینالٹ کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی

مزید برآں مال بردار ٹرینوں سے متعلق باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محکمہ ریلوے چھ ایسی ٹرینوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو خسارے میں چل رہی ہیں۔

پاکستان ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے سے متعلق ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ ملک کے ریل نظام میں انقلاب برپا کردے گا اور اس حوالے سے ٹینڈر کا مرحلہ مئی میں مکمل کرلیا جائے گا۔

پرافٹ اردو کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ایم ایل ون منصوبے کے تحت پشاور تا کراچی پہلے سے موجود ٹریک کیساتھ ایک ہزار 872 کلومیٹر کا ایک نیا ٹریک بچھایا جائے گا جس سے یہ روٹ دو رویہ ہوجائے گا، اس منصوبے کے تحت ٹریک کے گرد حفاطتی باڑ بھی لگائی جائے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ اس ٹریک کی تکمیل سے مسافر اور مال بردار گاڑیوں کی رفتار میں اضافہ ہوگا جس کے بعد 65 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنےوالی مسافر ٹرینوں کو 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جبکہ مال بردار ٹرینوں کو 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلایا جاسکے گا۔

ٹریک پر ٹرینوں کی حفاظت کے پیش نظر کمپیوٹرائزڈ سگنل اور کنٹرول سسٹم نصب کیا جائے گا اور یہ ٹریک کراچی براستہ حیدرآباد، نواب شاہ، روہڑی، رحیم یار خان، بہاولپور، خانیوال، ساہیوال، لاہور، گوجرانوالہ اور راولپنڈی سے ہوتا ہوا پشاور تک جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here