کورونا سے نمٹنے کیلئے آئی ایم ایف کی پاکستان کیلئے 1.4 ارب ڈالر اضافی امداد کی منظوری

آئی ایم ایف کی معاونت سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں میں کمی پرقابوپانے، کورونا وائرس کے معاشی اثرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی

290

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے انتظامی بورڈنے پاکستان کیلئے 1.386 ارب ڈالرکی مالی معاونت کی منظوری دیدی ہے، یہ معاونت آئی ایم ایف کے ریپڈفنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) طریقہ کارکے تحت فراہم کی گئی ہے تاکہ کوروناوائرس کی عالمگیروباءسے پیداہونے والے معاشی مسائل کو کم کیا جاسکے۔

آئی ایم ایف کی طرف سے جمعہ کوجاری بیان میں کہاگیاہے کہ کورونا وائرس کی وباء کے تناظرمیں پاکستان کو1.386 ارب ڈالر، جو50 فیصد کوٹہ ہے، کی سہولت فراہم کی گئی ہے تاکہ ادائیگیوں میں توازن کوبرقرار رکھا جاسکے۔

آئی ایم ایف کے بیان میں کہاگیاہے کہ وباءکی وجہ سے غیریقینی صورتحال کی کیفیت میں قریب مدت کے معاشی اثرات زیادہ ہوسکتے ہیں، اس کے نتیجہ میں پاکستان کو بیرونی زری ومالی تعاون کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کی معاونت سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں میں کمی پرقابوپانے میں مددملے گی، اس کے علاوہ کورونا وائرس کی وباءکے معاشی اثرات سے نمٹنے میں ہدفی اورعارضی اخراجات میں ہونے والے اضافہ میں بھی یہ معاونت مفید ثابت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے:

آئی ایم ایف کی جانب سے قرضوں میں ریلیف سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا؟

آئی ایم ایف نے پاکستان سمیت 76 ممالک کے قرضے ایک سال کیلئے منجمد کردئیے

بیان میں کہاگیاہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا پاکستان کے حکام کے ساتھ قریبی رابطہ ہے اور وباءکے اثرات ختم ہونے کے بعد توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پرپاکستان کے ساتھ بات چیت کادوبارہ سے آغازہوگا۔

انتظامی بورڈ کے اجلاس کے بعد آئی ایم ایف کے فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹرجیفری اوکاموٹونے ایک بیان میں کہاہے کہ کوروناوائرس کی وباء نے پاکستان کی معیشت پرگہرے اثرات مرتب کئے ہیں، ملک کے اندر اخراجات پرقابوپانے کے اقدامات اورعالمگیرمعاشی سست روی پاکستان میں بڑھوتری اوربیرونی ادائیگیوں کوبری طرح سے متاثرکررہی ہے، اس صورتحال نے ادائیگیوں میں توازن کی ضرورت کواجاگرکیاہے۔

انہوں نے کہاکہ غیریقینی کی اس صورتحال میں آئی ایم ایف کے ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) طریقہ کارکے تحت پاکستان کی ہنگامی امدادسے حکام کوکورونا وائرس کی وباءسے نمٹنے کیلئے فوری پالیسی سازی، صحت کے شعبہ پراخراجات کرنے کیلئے مالی وسائل کی فراہمی، اعمتادمیں اضافہ اوراضافی ڈونرمعاونت کے حصول میں مدد ملے گی۔

جیفری اوکاموٹو نے بتایا کہ موجودہ بحران کے جواب میں پاکستان کی حکومت نے کمیونٹی میں وائرس کے پھیلاﺅکوروکنے کیلئے فوری اقدامات کئے ہیں، پاکستان نے صحت سے شعبہ میں پیداہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اوراقتصادی سرگرمیوں کی معاونت کیلئے امدادی پیکج متعارف کرایاہے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان صحت عامہ اورسماجی تحفظ کے پروگراموں پراخراجات میں اضافہ کررہاہے تاکہ معاشرے کے غریب اورمستحق طبقت کوفوری طورپرریلیف فراہم کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیے: 

آئی ایم ایف نے رکن ممالک کیلئے مختصر مدت کے قرضوں کی منظوری دیدی

تاریخی لاک ڈائون کے باعث عالمی معیشت کی شرح نمو میں 3 فیصد گراوٹ متوقع

انہوں نے کہاکہ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے شرح سودمیں کمی، نئے رعایتی قرضوں کی سہولت اورمالیاتی استحکام کوتحفظ فراہم کرنے سمیت بروقت کئی اہم اقدامات کئے ہیں،اس صورتحال کے تناظرمیں پاکستان کے اقدامات ہدف پرمبنی اورعارضی ہوناچاہئیے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی حکومت بحران ختم ہونے کے بعد توسیعی فنڈ سہولت کے تحت زری استحکام، توانائی، اسلوب حکمرانی، انسدادمنی لانڈرنگ اوردہشت گردی کیلئے مالی تعاون کے خاتمہ سمیت اصلاحات کے پروگرام کوآگے بڑھانے میں پرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایڈجسٹمنت کے بوجھ کوکم کرنے اورادائیگیوں میں توازن کیلئے پاکستان کو امداددینے والے ممالک اورایجنسیوں کی فوری معاونت کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سمیت 76 ممالک کے 40 ارب ڈالرز کے قرضے ایک سال کے لیے منجمد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو رواں سال 40 ارب ڈالرز کے قرضے واپس کرنے ہیں لیکن کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک نے آئی ایم ایف سے قرضے منجمد کرنے کی درخواست کی ہے۔

اس حوالے سے جی 20 ممالک کا اجلاس سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہوا جہاں غریب ممالک کو قرضوں کے حوالے سے معاشی ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ جی 20 ممالک یہ قرضے ایک سال کے لیے منجمد کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں، 40 ارب ڈالرز میں سے 20 ارب ڈالرز کے قرضے سعودی عرب منجمد کرے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here