چین کی مجموعی قومی پیداوار میں 6.8 فیصد  کمی، صنعتی پیداوار اور ریٹیل سیکٹر بھی متاثر

183

بیجنگ: چین کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کئی دہائیوں بعد گزشتہ سہ ماہی میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث کمی کا شکار ہو گئی، جنوری تا مارچ 2020 کے دوران چین کے جی ڈی پی میں مارچ 2019کے مقابلے میں  6.8فیصد کی نمایاں کمی آئی ہے۔

چین کے قومی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 1990کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ سہ ماہی بنیادوں پر جی ڈی پی کی شرح نمو میں اس قدر کمی آئی ہے تاہم قومی پیداوار میں یہ کمی معاشی ماہرین کے  اندازوں 8.2 فیصد سے کم رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

تاریخی لاک ڈائون کے باعث عالمی معیشت کی شرح نمو میں 3 فیصد گراوٹ متوقع

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اڑھائی کروڑ افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

کوروناوائرس: جرمنی، فرانس، امریکا، برطانیہ کی معیشتیں بد ترین کساد بازاری کے دہانے پر

عالمی ماہرین کے حوالے سے  ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1976کے بعد پہلی بار چین کی مجموعی قومی پیداوار میں اسقدر کمی آئی ہے اور چین کی جی ڈی پی کی سالانہ شرح نمو میں 1.7 فیصد جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق 1.2فیصد تک کمی آنے کا امکان  ہے۔

چین کے قومی ادارہ شماریات کے مطابق کورونا وائرس کی وبا ملک کی ریٹیل سیلز اور صنعتی پیداوار پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔

صنعتیں بند ہونے سے صنعتی پیداوار میں مارچ کے دوران1.1 فیصد جبکہ لاک ڈاؤن کے باعث ریٹیل سیلز  کی شرح میں 15.8 فیصد کمی آئی۔

اسی طرح شہری علاقوں میں بیروزگاری کی شرح  فروری 2020 میں بڑھ کر 6.2 فیصد رہی تھی جو مارچ میں کم ہو کر 5.9 فیصد پر آئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here