لاک ڈائون کے دوران پنجاب میں کونسا کاروبار کھلا اور کونسا بند ہے؟

154

لاہور: صوبائی وزیر قانون، پارلیمانی امور و سوشل ویلفیئر راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جس نے کورونا سے بچاؤ کے لیے کیے گئے اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کیا ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ آرڈیننس جاری کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں صوبائی وزیر صحت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مساجد کے حوالے سے ایک سنٹرلائزڈ پالیسی لا رہی ہے. تاجروں کے مطالبات حقیقت پر مبنی ہیں جس پر کام جاری ہے، ورکنگ کمیٹی نے تاجروں کے حوالے سے سفارشات تیار کر لی ہیں. علماء اور تاجروں کواعتماد میں لے کر چل رہے ہیں اور ان کا تعاون بھی حاصل ہے۔

لاک ڈاؤن کے حوالے سے نئے اقدامات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ 25 اپریل تک مارکیٹس، شاپنگ مالز،سرکاری و غیر سرکاری دفاتر،پبلک ٹرانسپورٹ، مذہبی اجتماعات و محافل، سرکاری و پرائیویٹ کھیلوں کے مقابلے اور تہوار، گھروں یا پرائیویٹ مقامات پرتقریبات کا انعقاد، سنوکر کلب، جم، شادی ہال، سکول، کالج، یونیورسٹیاں، ٹیکنیکل و ووکیشنل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹس، ٹیوشن سنٹرز، دینی مدارس اور تعلیمی اداروں میں امتحانات پر مکمل پابندی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں:

آئی ایم ایف نے پاکستان سمیت 76 ممالک کے قرضے ایک سال کیلئے منجمد کردئیے

آئی ایم ایف کی جانب سے قرضوں میں ریلیف سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا؟

کورونا سے نمٹنے کیلئے آئی ایم ایف کی پاکستان کیلئے 1.4 ارب ڈالر اضافی امداد کی منظوری

راجہ بشارت نے کہا کہ عوام کی سہولت کے لیے جن شعبوں کو کھولا گیا ہے ان میں اہم یا ناگزیر محکموں کے ملازمین، اہم کیسز میں جانے والے وکلاء، ججز اور عملہ، اہم مفاد عامہ کے ادارے مثلاً واپڈا، واسا، سوئی گیس، ٹیلی فون بلدیاتی ادارے، موبائل کمپنیاں اور ان کے فرنچائز،دفاع کے متعلق پیداواری ادارے، ضروری سٹاف کے ساتھ،مالیاتی ادارے، سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، سٹاک ایکسچینج، سنٹرل ڈیپازیٹری کمپنی اور منسلک ادارے، احساس کفالت پروگارم اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفاتر و مراکز شامل ہیں۔

اس کے علاوہ مقامی سطح پر کمشنروں کی جانب سے دیے گئے استثنیٰ، صحت کی خدمات، اس سے منسلک افراد، ادویات اور PPEs بنانے والے ادارے اور ان کی ترسیل و فراہمی سے منسلک افراد، تدفین اور نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے افراد،50 فیصد سٹاف کے ساتھ کال سنٹرز،کریانہ سٹورز، بیکری، آٹا چکی، دودھ کی دکان، آٹو ورکشاپس، پٹرول پمپس اور آئل ڈپوز،ہوٹلوں اور فوڈ پوائنٹس کی ہوم ڈلیوری اور ٹیک اوے سروس، پٹرول پمپس، ایل پی جی کی دکانیں اور فلنگ اسٹیشنز، پوسٹل اور کوریئر سروسز، پک اینڈ ڈراپ سروس کو بھی کام کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ فلاحی تنظیمیں جو فری دسترخوان اور ضروری خدمات فراہم کرتی ہیں، کھانے پینے کی پیکنگ کی صنعت/ کارخانے، ڈرائی پورٹ اور اس سے منسلک کسٹمر سروسز،پولٹری اور فیڈ ملز،باردانہ  بنانے والے ادارے اور اس کی سپلائی چین کا حصہ،ٹیٹرا پیک اور اس طرح کے دوسرے پیکنگ ادارے،حفظان صحت کی اشیاء کی پیداوار کے ادارے اور اس کی فراہمی اور ترسیل سے منسلک افراد،تیل اور گیس کی پیداوار کے ادارے  اور ان کے ٹھیکیدار، کھاد، بیج اور کیڑے مار ادویات بنانے والے ادارے اور ان کی سپلائی چین، ٹریکٹر، زرعی مشینری و آلات بنانے والے ادارے اور ورکشاپس کھلی رہیں گی۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دوا سازی سے منسلک پرنٹنگ، پیکیجنگ، بوتل، کیپسول شیل وغیرہ بنانے والے ادارے،سوڈا ایش انڈسٹریز کم از کم سٹاف کے ساتھ،سیمنٹ بنانے والی کمپنیاں و سپلائی چین اور ماچس بنانے والے ادارے،ڈرائی کلینرز اور لانڈریاں احتیاطی تدابیر کے ساتھ،ٹرانسفارمر کمپنیاں کم از کم عملے کے ساتھ، میڈیا کے افراد جن کو انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے نامزد کیا ہو اور اخبار فروش، کیمیکل انڈسٹریز، سافٹ ویئر، پروگرامنگ اور ٹیک سپورٹ کمپنیاں،گلاس مینوفیکچرنگ، کاغذ اور پیکجنگ یونٹ اورباغبانی اور نباتاتی ادارے و نرسریاں بھی کھلی رہیں گی۔

راجہ بشارت نے بتایا کہ دودھ دہی اور گوشت کی دکانیں صبح 9تا 8 بجے شام تک کھلی رہیں گی۔ گروسری سٹورز، کریانہ، ڈیپارٹمنٹل سٹورز، میٹ اینڈ فش شاپس، عینک سازی کی دکانیں،بیکریاں،زرعی سپرے، کھاد، بیج کی دکانیں، آٹو ورکشاپس اورزرعی مشینری کی ورکشاپس صبح9بجے تا5بجے شام کھلی رہیں گی جبکہ پٹرول پمپس، آئیل ڈپو، ایل پی جی آؤٹ لیٹ، فارمیسیز، فروٹ و سبزی منڈی، تندور، آٹا چکیاں، پوسٹل و کورئرسروس، پرنٹنگ پریس، ٹیک اوے و ہوم ڈلیوری سروس اور کال سینٹرز50 فیصد سٹاف کے ساتھ رات 8 بجے کے بعد بھی کھلے رہ سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here