تعمیراتی شعبے کیلئے آرڈیننس منظور، بلڈرز، لینڈ ڈویلپرز کو 2022 تک خصوصی ٹیکس ریلیف

سیمنٹ، سریے کے علاوہ دیگر سامان پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم، فکس ٹیکس متعارف ہوگا، نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری پر 90 فیصد ٹیکس ریلیف، گھر فروخت کرنے پر کیپٹل گین ٹیکس لاگو نہیں ہو گا

271

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے تعمیراتی شعبے کے لیے آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت بلڈرز اور لینڈ ڈویلپرز کو 2022 تک مکمل ہونے والے منصوبوں پر خصوصی ٹیکس مراعات دی جائیں گی۔

آرڈیننس کے مطابق کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ تعمیراتی شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کیلئے بلڈرز اینڈ لینڈ ڈویلپرز کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

آرڈیننس کے تحت بلڈرز اینڈ لینڈ ڈویلپرز کو یہ سرمایہ 31 دسمبر تک بینک اکاؤنٹس میں جمع کرانا ہوگا تاہم بلڈرز اینڈ لینڈ ڈویلپرز سرمائے کو بینک اکاؤنٹس سے نکالنے کے مجاز ہوں گے اور اسے تعمیراتی منصوبوں میں استعمال کر سکیں گے۔

بلڈرز اینڈ لینڈ ڈویلپرز اس سرمائے کو 30 ستمبر 2022 تک کراس چیک کے ذریعےاستعمال کرسکیں گے جب کہ آرڈیننس کے تحت بلڈرز اور لینڈ ڈویلپرز کو انکم ٹیکس اور کیپیٹل گین ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے: 

تعمیراتی شعبے کیلئے حکومتی پیکج میں سٹیل انڈسٹری نظر انداز

وزیراعظم کا کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈکے قیام، تعمیراتی شعبے کو کھولنے کا اعلان

سٹیل انڈسٹری کے بغیر تعمیراتی طلب پوری نہیں ہو سکتی، لاک ڈاؤن سے استثنیٰ کا مطالبہ

ٹیکس مراعات کا نفاذ آرڈیننس کے اجراء سے شروع ہو جائے گا جس کے بعد تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے۔

آرڈیننس کا اطلاق پبلک آفس ہولڈرز اور بے نامی داروں، جرائم اور دہشتگردی کے سرمائے پر نہیں ہوگا۔

آرڈیننس کا اطلاق ستمبر 2022 تک مکمل ہونے والے منصوبوں پر ہو گا اور آرڈیننس کے تحت بلڈرز اینڈ لینڈ ڈویلپرز کو سیمنٹ اور سریے کے علاوہ دیگر سامان پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ ہو گی جب کہ تعمیراتی شعبے کو انڈسٹری کا درجہ ملے گا جس کے لیے فکس ٹیکس اسکیم متعارف ہوگی۔

آرڈیننس کے مطابق نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری پر 90 فیصد ٹیکس کی چھوٹ ہوگی اور گھر فروخت کرنے پر کیپٹل گین ٹیکس لاگو نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے مراعات کا اعلان کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here