کورونا ایک دن میں 17 جانیں نگل گیا، اموات 124، کیسز کی تعداد 6505 ہوگئی

312

لاہور: پاکستان میں کورونا وائرس سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 17 افراد جان کی بازی ہار گئے جس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 124 ہوگئی ہے جبکہ 500 سے زیادہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 6505 تک پہنچ گئی، اب تک وائرس کا شکار ہونے والے 1645 افراد صحت یاب ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں جبکہ باقی 4736 افراد مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

کورونا وائرس کے اعدادوشمار کیلئے بنائے گئے سرکاری پورٹل کے مطابق ملک میں ہونے والی 124 ہلاکتوں میں سے سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں 42، سندھ 41 اور پنجاب میں 34 اموات ہوئی ہیں، اس کے علاوہ بلوچستان میں 3، گلگت 3 اوراسلام آباد میں ایک ہلاکت ہوچکی ہے۔

لاک ڈائون میں توسیع

14 اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے اسے 30 اپریل تک بڑھا دیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے بدستور بند رہیں گے جبکہ عوامی مقامات پر بھی لاک ڈاؤن برقرار رہے گا تاہم معیشت میں گراوٹ اور بیروگاری کے خدشے کے پیش نظر کنسٹرکشن سمیت چند صنعتوں کو کھولنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

کون کون سی صنعتیں کھولی گئی ہیں؟

لاک ڈائون میں توسیع کے ساتھ ہی حکومت نے ملک کی تمام ایکسپورٹ انڈسٹری کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، تعمیراتی سیکٹر سے جڑے تمام شعبے حفاظتی تدابیر کے ساتھ کھولے گئے ہیں۔

ای کامرس، لوکل ڈیلیوری، سافٹ ویئر ہاوسز، فرٹیلائزر پلانٹس، نرسریاں اور زراعت کے یونٹس کو بھی کھولا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

آئی ایم ایف کی کورونا سے نمٹنے کے پاکستانی اقدامات کی تعریف

تاریخی لاک ڈائون کے باعث عالمی معیشت کی شرح نمو میں 3 فیصد گراوٹ متوقع

رواں سال پاکستان کے جی ڈی پی کی شرح نمو میں مزید کمی کا امکان، سٹیٹ بینک کی دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری

جناب وزیراعظم! آپ غلط کہتے ہیں، پاکستان لاک ڈائون کا متحمل ہو سکتا ہے مگر اس پلان کے تحت ۔۔۔

جانوروں کے ہسپتال، کتابوں کی اور سٹیشنری کی دکانیں، شیشہ بنانے والی صنعتیں، الیکٹریشن، پلمبرز اور ترکھانوں کو بھی کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

حجام کی دکانیں کھولنے سے متعلق صوبوں کی مختلف آراء تھیں تاہم اسے بھی کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، اس کے علاوہ سیمنٹ، بجری اور ریت بنانے والے یونٹس اور تمام ایکسپورٹ انڈسٹری کو کھول دیا گیا ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ تمام صنعتیں حفاظتی تدابیر کے ساتھ کھولی جائیں گی، الیکٹریشن، پلمبر، ریڑھی لگانے والوں کواجازت ہو گی۔

‘رمضان کا لائحہ عمل علماء کی مشاورت سے طے کرینگے’

وزیرِ اعظم عمران خان نے کووڈ 19 کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق درست ڈیٹا اور معلومات پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ صحیح اعدادوشمار پر مبنی ڈیٹا کی بنیاد پر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔

اجلاس میں ماہ رمضان کو پیش نظر رکھتے ہوئے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے حکمت عملی بھی زیر غور آئی جس پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ بہت جلد علمائے کرام سے ملاقات کریں گے تاکہ علما کی رہنمائی سے رمضان کے حوالے سے حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔

وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اجلاس کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے آج کےاجلاس کے بارے میں بریفنگ دی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف ڈبلیو او کی جانب سے راولپنڈی میں ڈھائی سو بستروں پرقائم کیے جانے والے فیلڈ ہسپتال کی طرزپر ملک کے دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کے قرنطینہ مراکز قائم کیے جائیں گے۔

پنجاب میں رمضان بازار نہ لگانے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں رمضان کے دوران سستے بازار نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سستے بازاروں کا انتظام نہیں کیا جائے گا بلکہ مستحق خاندانوں کو رمضان پیکیج کے تحت مالی امداد دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان پیکیج کے تحت مالی امداد کا طریقہ کار اوردیگر امور جلد طے کئے جائیں، کورونا وبا کے پیش نظر عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے متحرک طریقے سے کام کرنا ہوگا، صوبے میں مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

کورونا وائرس کی وجہ سے افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان نے ایکشن لیتے ہوئے انہیں واپس لانے کا حکم دیا ہے۔

چیئرمین سیفران کمیٹی سینیٹر تاج آفریدی نے وزیر اعظم عمران خان کو افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کے سلسلے میں خط لکھا تھا جس پرانھوں نے ایکشن لے کر پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی ہدایت کر دی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کو رواں ہفتے واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے، وطن واپسی پر ان مسافروں کو سات دن قرنطینہ میں رکھا جائے گا، وزیر اعظم نے طورخم بارڈر پر قرنطینہ سینٹر کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت بھی کر دی۔

‘کم ٹیسٹ ہونے کی وجہ سے کیسز زیادہ نہیں آ رہے’

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کورونا کے ٹیسٹ کم ہونے سے کیسز زیادہ نہیں آ رہے، انسانی جانیں بچانے کیلئے لاک ڈاؤن بڑھایا، چاہتے ہیں جو بھی باہر سے آنا چاہے وہ ایس او پیز کو فالو کرے، کسی سیکیورٹی اور پروٹوکول کی ضرورت نہیں، مارچ سے ہی سخت لاک ڈاؤن کرنا چاہیئے تھا، ہم متحد ہوں تو پولیس کو ناکوں کی ضرورت نہ پڑے۔

عالمی صورت حال

کورونا وائرس کی ہلاکت خیز وبا دنیا بھر میں 1 لاکھ 34 ہزار سے زائد انسانوں کی زندگیاں نگل گئی جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ اسّی ہزار سے تجاوز کرگئی۔

حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں وائرس سے متاثرہ 5 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد اب تک صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

جان لیوا وبا نے سب سے زیادہ متاثر امریکا کو کیا ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے 28 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ 6 لاکھ 44 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

کورونا وائرس نے جتنی تیزی سے اٹلی میں لوگوں کی جانیں نگلیں ہیں اتنی ہی تیزی سے اسپین کو بھی اپنا نشانہ بنایا جہاں اب تک 18 ہزار 812 افراد کی زندگیاں ختم ہوچکی ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 1 لاکھ 80 ہزار سے زائد ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

عالمی ائیرلائنز کو کورونا بحران سے 314 ارب ڈالر نقصان

کوروناوائرس: جرمنی، فرانس، امریکا، برطانیہ کی معیشتیں بد ترین کساد بازاری کے دہانے پر

عالمی تجارت میں 32 فیصد کمی متوقع، ترقی پذیر معیشتوں سے 100 ارب ڈالر کا انخلاء

انسانوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش، کیا کورونا وائرس کے پیچھے بل گیٹس کا ہاتھ ہے؟

اٹلی میں مہلک ترین وائرس نے 21 ہزار 645 افراد کو ہلاک کیا جبکہ 1 لاکھ 65 ہزار سے زائد لوگوں کو متاثر کرچکا ہے۔

فرانس میں وائرس نے 13 ہزار 167 جانیں لیں اور 1 لاکھ 47 ہزار سے زائد افراد کو مریض بنایا جبکہ برطانیہ میں اموات کی تعداد 12 ہزار 868 اور مریضوں کی تعداد 98 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔

ایرانی ڈاکٹروں اور حکام نے وائرس کے پھیلاؤ پر تقریباً قابو پالیا ہے جس کے باعث وہاں ہلاکتوں کی شرح میں کمی آئی ہیں۔ اس کے باوجود وائرس 4777 افراد کی جانیں لے چکا ہے جبکہ 76 ہزار سے افراد متاثر ہیں۔

چین نے وائرس پر کئی روز قبل ہی قابو پالیا تھا جس کے باعث وہاں اموات کی شرح تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، چین میں 3342 افراد ہلاک جبکہ 28 ہزار لوگ تاحال متاثر ہیں۔

جرمنی میں کورونا وائرس سے 3804 افراد ہلاک اور ایک لاکھ 34 ہزار سے زائد مریض ہیں، کرونا وائرس نے بیلجیئم میں 4440 ہلاکتیں اور 35 ہزار سے زائد متاثر، سوئٹزرلینڈ میں 1239 اور ترکی میں 1518 انسانی جانیں لیں جبکہ 69 ہزار سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا۔

وائرس برازیل میں بھی 1760، سوئیڈن میں 1203، پرتگال میں 599، کینیڈا میں 1010، انڈونیشیا میں 469، سعودی عرب میں 79، نیدرلینڈز میں 3134 افراد ہلاک 28 ہزار سے زائد متاثر ہیں جبکہ بھارت میں 422 افراد کو لقمہ اجل بنایا جبکہ 12 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here