عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اٹھارہ سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں

اوپیک اور روس کا پیداوار میں کمی کا فیصلہ قیمتیں سنبھالنے میں ناکام، عالمی توانائی ایجنسی نے صورتحال کے پیش نظر 2020 کو تاریخ کا بد ترین سال قرار دے دیا

286

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پیداوار میں کمی کے معاہدے کے باعث معمولی اضافے کے بعد ایک بار پھر زبردست گراوٹ کا شکار ہوگئیں ہیں۔

ایسا کورونا وائرس کے باعث مانگ میں کمی کی انتہائی سنجیدہ وارننگ کے بعد ہوا ہے اور تازہ اطلاع کےمطابق تیل کے نرخ اٹھارہ سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

عالمی منڈی کے تازہ احوال کے مطابق امریکی ویسٹ ٹیکساس 20 ڈالر فی بیرل(جو کہ اسکی اٹھارہ سال کی کم ترین سطح ہے) تک گرنے کے بعد کچھ سنبھل کر 20.44 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ برینٹ کروڈ 28.31 ڈالر فی بیرل کی سطح پر فروخت ہورہا ہے۔

قیمتوں کے گرنے کی وجہ کورونا وائرس کے باعث کم ہونے والی ڈیمانڈ اور اوپیک سربراہ سعودی عرب اور اس کے نان اوپیک حریف روس کے درمیان قیمت کی جنگ کو قرار دیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس کے باعث پاکستانی برآمدات میں تین ارب ڈالر کمی آئے گی، رزاق داؤد

عالمی وبا کی وجہ سے قیمتیں گرنے سے تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی مشکلات کا شکار

‘صنعتکار تصدیق شدہ برآمداتی آرڈرز پر صنعتیں کھول سکتے ہیں’

اگرچہ فریقین کی جانب سے تنازعے کے حل اور پیداوار میں کمی کے فیصلے کے باعث قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا تھا مگر یہ فیصلہ جلد ہی اپنی افادیت کھو بیٹھا ہے۔

تیل ذخیرہ کرنے کے مقامات کے اپنی صلاحیت کے قریب تک بھر جانے کے باعث سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ پیداوارمیں کمی کا یہ فیصلہ مانگ میں کمی کےاثر کو کم کرنے میں زیادہ معاون ثابت نہیں ہوسکتا۔

صورتحال کے باعث عالمی توانائی ایجنسی نے سن 2020 کو تاریخ کا بد ترین سال قرار دے دیا۔

اپنی حالیہ ماہانہ رپورٹ میں ایجنسی کا کہنا تھا کہ 2020 میں  تیل کی مانگ میں 9.3 ملین بیرل یومیہ کمی آئے گی جبکہ صرف اپریل میں 29 ملین بیرل یومیہ کمی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ وہ صورتحال ہے جو آخری مرتبہ  1995 میں دیکھی گئی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here