سٹیل انڈسٹری کے بغیر تعمیراتی طلب پوری نہیں ہو سکتی، سٹیل پروڈیوسرز کا لاک ڈاؤن سے استثنیٰ کا مطالبہ

317

اسلام آباد: پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج سٹیل پروڈیوسرز(پی اے ایل ایس پی) نے وفاقی حکومت کی جانب سے تعمیراتی شعبہ کھولنے جبکہ سٹیل سیکٹر کو نہ کھولنے کے انتخاب پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔

خیبرپختونخوا میں جب یہ صنعت کھولی جارہی ہے تو آنے والے دنوں میں انڈسٹری میں غیرصحت مند مقابلے کا خدشہ ہے جبکہ مذکورہ انڈسٹری ملک کے دیگر صوبوں میں بند ہے۔

پی اے ایل ایس پی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسٹیل تعمیراتی شعبے کا لازمی حصہ ہے جس میں سٹیل سیکٹر یونٹس کی اپنی لیبر کالونیوں میں رہائش ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس کے اثرات، سٹیل سیکٹر کا بیل آئوٹ پیکیج کا مطالبہ

تعمیراتی شعبے کیلئے حکومتی پیکج میں سٹیل انڈسٹری نظر انداز

وزیراعظم کا کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈکے قیام، تعمیراتی شعبے کو 14 اپریل سے کھولنے کا اعلان

ایسوسی ایشن نے حکومت سے کورونا وائرس ایس او پیز کے تحت جلد انڈسٹری کھولنے کی درخواست کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ “سٹیل کی کھپت اور دستیابی کے بغیر تعمیراتی شعبے کے لیے سرگرمیاں شروع کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ سٹیل انڈسٹری کھولنے میں کسی بھی قسم کی تاخیر سٹیل کی قلت کا نتیجہ بنے گی جس سے مشکلات پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ اُن صارفین کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا جنہیں تعمیری کام شروع کرنا ہے”۔

پی اے ایل ایس پی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کا تعمیری شعبہ کھولنے کا فیصلہ تاریخی ہے کیونکہ یہ نوکریاں پیدا کرنے میں اہم ہے۔

ایسوسی ایشن نے بتایا کہ چونکہ حکومت نے تعمیراتی شعبے کو بڑے پیمانے پر کھول دیا ہے، اس لیے سٹیل کی مانگ میں اچانک اضافہ ہو رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here