روس کا سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے والے میزائل کا تجربہ، خلا میں خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے: امریکا 

470

واشنگٹن: امریکی فوج کی سپیس کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے زمین کے گرد مدار میں گردش کرنے والے سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل کا تجربہ کیا ہے جو خلا میں خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

امریکہ کی سپیس کمانڈ کے کمانڈر اور چیف آف یو ایس سپیس فورس آپریشنز جنرل جان ریمنڈ کے مطابق اے ایس اے ٹی نام کا اینٹی سیٹلائٹ میزائل زمین کے گرد نچلے مدار میں گردش کرنے والے سیٹلائٹس کو تباہ کر سکتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے سپیس سسٹم کو درپیش خطرات حقیقی ہیں۔

امریکی ٹی وی سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق جنرل جان ریمنڈ نے مزید کہا ہے کہ روس کی طرف سے یہ تجربہ خلا میں اسلحہ کی دوڑ پر کنٹرول بارے اس کے دہرے معیار کا ثبوت ہے کیونکہ وہ ایک طرف اس حوالے سے امریکی صلاحیتوں پر کنٹرول کا واویلا کرتا ہے تو دوسری طرف خود خلائی اسلحہ کے پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ روس کی طرف سے اس میزائل تجربے سے کچھ دیر قبل دو روسی خلائی جہاز امریکہ کے ایک جاسوس سیٹلائٹ کے قریب آگئے تھے۔

جنرل جان ریمنڈ نے مزید کہا کہ روسی خلائی جہازوں کا انداز غیر معمولی اور پریشان کن تھا۔

انہوں نے کہا کہ روس ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی وضاحت کرے جو خلا میں امریکی سسٹمز کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ حالیہ روسی اقدامات خلا میں خطرناک صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق روس نے قبل ازیں دسمبر 2018ء میں پی ایل۔ 19 نوڈول اینٹی سیٹلائیٹ میزائل سسٹم کا تجربہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ زمین کے گرد مدار میں گردش کرنے والے سیٹلائٹس کو تباہ کرنے کی صلاحیت چند ایک ممالک کے پاس ہے تاہم ایسے کسی اقدام کے نہایت خطرناک مضمرات ہو سکتے ہیں کیونکہ تباہ ہونے والے کسی سیٹلائٹ کا چھوٹا سا ٹکڑا کسی دوسرے سیٹلائٹ سے ٹکرا کر اس کو بھی تباہ کرسکتا ہے۔

امریکہ کے نیشنل ایئر اینڈ سپیس انٹیلی جنس سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق چین نے بھی 2007 ء میں ایسا ہی ایک تجربہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں تباہ کئے جانے والے چین کے اپنے ایک موسمیاتی سیٹلائٹ کا ملبہ کافی مقدار میں خلا میں بکھر گیا تھا جو اَب بھی خلا میں موجود ہے۔ یہ سیٹلائٹ زمین سے آٹھ سو کلومیٹر کی دوری پر گردش کر رہا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here