آئی ایم ایف کی جانب سے قرضوں میں ریلیف سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا؟

پاکستان کے 12 ارب ڈالر کے قرضے ایک سال کیلئے مؤخر ہوں گے،  وزیراعظم عمران خان نے جی ٹونٹی ممالک کا فیصلہ قابل ستائش قرار دیدیا

330

لاہور: جی 20 ممالک کے قرض ریلیف سے پاکستان کے 12 ارب ڈالر کے قرضے ایک سال کیلئے مؤخر ہوں گے۔

مؤخر ہونے والے قرضوں میں آئی ایم ایف، عالمی بینک اور اے ڈی بی کے قرض شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ترقیاتی بینک اور پیرس کلب کے قرضے بھی مؤخر ہوں گے۔

 وزیراعظم عمران خان جی ٹونٹی ممالک کی جانب سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ملکوں کے لیے قرضوں میں ریلیف کو قابل ستائش قرار دیا ہے۔

وزیراعظم نے یہ اظہار خیال مشیر خزانہ عبدلحفیظ شیخ سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کیا۔

یہ بھی پڑھیے: 

آئی ایم ایف نے پاکستان سمیت 76 ممالک کے قرضے ایک سال کیلئے منجمد کردئیے

تاریخی لاک ڈائون کے باعث عالمی معیشت کی شرح نمو میں 3 فیصد گراوٹ متوقع

خیبرپختونخوا کے فیکٹری مالکان کا آسان شرائط پر بلا سود قرضے، تین ماہ بجلی و گیس بل معاف کرنے کا مطالبہ

ملاقات میں مشیرخزانہ عبدلحفیظ شیخ نے وزیراعظم کوعالمی مالیاتی ادارے کی جانب سےاضافی ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کے رعایتی قرضہ دینے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا یہ قرضہ کورونا سے متاثرہ معیشت کوسہارادینے کیلئے ہے۔مشیرخزانہ نے وزیراعظم کو حکومت کی جانب سےاعلان کردہ پیکیجز کےمخلتف پہلؤں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ جی 20 ممالک یہ قرضے ایک سال کے لیے منجمد کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں، 40 ارب ڈالرز میں سے 20 ارب ڈالرز کے قرضے سعودی عرب منجمد کرے گا۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان سمیت 76 ممالک اس سہولت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ قرضے منجمد کرنے کا مقصد متاثر ممالک کو صحت و معاشی مسائل میں مدد دینا ہے، مالیاتی ادارے یہ قرض منجمد کریں۔

قبل ازیں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر جی 20 اجلاس میں 76 ترقی پذیر ممالک کو قرض ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا جو خوش آئند ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی عمران خان کے موقف کی تائید کی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here