امریکی انٹرپرینور برینڈن ٹمنسکی پاکستان میں کیا کر رہے ہیں؟

ٹمنسکی 15 سال کی عمر سے کاروبار کر رہے ہیں، نت نئے آئیڈیاز کی بنیاد پر کئی کاروبار شروع کر چکے، ان دنوں پاکستان کے بینکنگ سیکٹر میں انقلاب برپا کردینے والے منصوبے پر کام کر رہے ہیں

1354

ستمبر 2008 میں کالج سے نکالے جانے والے ایک 29 سالہ امریکی نوجوان کو ان کے پاکستانی دوست نے دورہ پاکستان کی دعوت دی، یہ برینڈن ٹمنسکی (Brandon Timinsky) تھے جو امریکی شہری اور انٹرپرینور ہیں۔

یہ وہ وقت تھا جب ٹمنکسی اپنے نئے بزنس آئیڈیا کے لیے کسی ایشیائی مارکیٹ کی تلاش میں تھے اور اب امریکی ریاست فلوریڈا میں پیدا ہونا والا یہ نوجوان اس امید پر پاکستان میں موجود ہے کہ اس کا مالی معاملات کو ٹیکنالوجی کے ذریعے سنبھالنے والا منصوبہ ’سادہ پے‘ پاکستان کے مالیاتی اور بنکنگ نظام کو بدل دے گا۔

کسی امریکی انٹرپرینور کا پاکستانی بنکنگ نظام میں جگہ بنانے کی کوشش کرنا عجیب لگتا ہے مگر برینڈن ٹمنسکی کی کہانی بہت ساری ناکامیوں اور سیکھنے کے لیے بہت سے اسباق سے بھر پور ہے۔  یہ محض کامیابی کی کہانی نہیں بلکہ اپنی ہمت بار بار مجتمع کرنے اور مقصد سے جڑے رہنے کی ایک شاندار داستان ہے۔

اس داستان کا آغاز تب ہوا جب برینڈن ہائی اسکول میں تھے اور محض 14 برس کی عمر میں پروگرامنگ سیکھ کر ایک مقامی کاروبار کے لیے فری لانس ویب ڈیویلپر کے طور پر کام کرنے لگے۔ 15 سال کی عمر میں انہوں نے اپنا کام شروع کردیا اور کام کا بوجھ بٹانے کے لیے کچھ  فری لانسرز ہائر کرلیے۔

اس کے بعد انہوں نے اَن گنت کاروبار شروع کیے جس میں کچھ کامیاب ہوئے مگر زیادہ تر میں انہیں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ ناکامیاں ہی تھیں جنھوں نے برینڈن کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

اپنے اس سفر سے متعلق برینڈن بتاتے ہیں کہ “میں نے بہت سے شعبوں میں قسمت آزمائی، جیسا کہ مردانہ سکن کئیر، گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری، پہنی جانے والی ٹیکنالوجی کی مصنوعات، رئیل اسٹیٹ ٹیکنالوجی وغیرہ اور مخلتف کاموں سے مجھے مخلتف اسباق حاصل ہوئے۔”

برینڈن ٹمنسکی کہتے ہیں، “2007 میں جب ٹوئٹر مقبول ہونے لگا تو میں نے فالوورز فروخت کرنے والی کمپنی بنائی جس نے سال بھر اچھی کمائی کی لیکن بعد میں مجھے مقابلے میں ناکامی ہونے لگی اور پہلی ناکامی نے مجھے چھوٹی سی عمر میں بہت اہم سبق دے دیا‘‘۔

آج ٹمنسکی ایک کامیاب انٹرپرینور ہیں جنھوں نے ای کامرس کے سات منصوبے شروع کیے، ان کا حالیہ منصوبہ فیول لاجسٹکس سے متعلق تھا جسے سلیکون ویلی (امریکی ریاست سان فرانسکو کا کمپیوٹرٹیکنالوجی کے حوالے سے مشہور علاقہ) میں واقع ایک کمپنی نے زبردست ڈیل کے بعد خرید لیا۔

اب برینڈن ٹمنکسی نے پاکستانی بنکنگ نظام کو اپنی کمپنی ’سادہ پے‘ کے ذریعے بدلنے پر نظریں مرکوز کر رکھی ہیں۔

برینڈن اپنی کامیابیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ناکامی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ’’میری زندگی میں ہر ناکامی ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی، بعض دفعہ کسی کاروبار کا ناکام ہونا ہی لکھا ہوتا ہے، تو جب اس نے آگے چل کر ناکام ہی ہونا ہے تو ایسا دیر سے ہونے کے بجائے جلد ہو جانا ہی بہتر ہے۔”

وہ کہتے ہیں کہ “ناکامی کو قبول کیجیے، بہت سے انٹرپرینور اپنا کاروبار محض اندازوں کی بنیاد پر شروع کرتے ہیں جو زیادہ تر غلط ثابت ہوتے ہیں، کاروبار کرنے کے دوران میں نے سیکھا ہے کہ ہم جتنی جلدی اپنے اندازوں کے درست ہونے کا پتہ چلا لیں تو بہتر سمت سمت کے تعین کیلئے یہ اتنا ہی اچھا ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ ان کے پچھلے کاروبار گیس ننجاس (Gas Ninjas) میں چھ مرتبہ کوشش کے بعد کامیابی ملی۔

برینڈن کا کہنا تھا کہ انہوں نے نکمے شراکت داروں، قانونی مسائل، قواعد و ضوابط کی رکاوٹوں اور پریشان کرنے والے گاہکوں کو جھیلا ہے اور سب سے زیادہ پیش آنے والی مشکل یہ تھی کہ گاہک کو اسکے مسئلے کے حل کی پرواہ ہی نہیں ہوتی تھی۔

‘کاروبار کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانوں کی مشکل کو آسان کرے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو امکان ہے کہ آپ کا کاروبار نہیں چل سکتا۔’

گیس ننجاز سے سادہ پے تک

برینڈن ٹمنسکی کو سب سے زیادہ شہرت اور کامیابی گیس ننجاز سے ملی۔  گیس ننجاز دراصل گاڑیوں میں استعمال کی جانے کی جانے والی گیس سے متعلق کاروبار تھا جو ٹمنسکی نے ایک شراکت دار کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا۔

اس کاروبار کے پس پردہ آئیڈیا لوگوں اور بڑے اداروں کی گاڑیوں کو گیس ان کی جگہ پر پہنچا کر ان کا گیس سٹیشنوں پر ضائع ہونے والا وقت بچانا تھا۔

ٹمنکسی کہتے ہیں کہ گیس کے اس کاروبار میں انہیں پہلا گاہگ تین ماہ بعد ملا، جب شروع شروع میں گیس ننجاز نے لوگوں کے مقامات (گھر یا دفاتر) میں جا کر گیس پہنچانے کا کام شروع کیا تو انہیں دن کے وقت میں ٹریفک کی وجہ سے بے تحاشا مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث کمپنی نے صرف رات کے اوقات میں گیس فراہمی کا فیصلہ کیا۔

برینڈن ٹمنکسی کے مطابق ’’کاروبار کے دوسرے سال میں ہمیں معلوم ہوا کہ زیادہ تعداد میں گاڑیاں رکھنے والی کمپنیوں کے پاس دیگر اہم مسائل بھی ہیں لہٰذا ہم نے ایک ایسا کاروباری ماڈل بنایا جو بڑی کمپنیوں کے ریورس پلاننگ سسٹم (ERP) میں ضم ہونے کے قابل تھا۔”

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد Exajoule ( جو سلیکون ویلی میں قائم ایندھن کی ترسیل کی کمپنی ہے اور گیس ننجاز کے مدمقابل تھی) کی جانب سے اس کاروبار کے حصول سے پہلے ہم نے فارچیون 500 کے کئی صارفین کے ساتھ کاروباری معاہدے کیے۔ Exajoule نے جو چیز ہم سے لی اسے اس کمپنی نے فرنچائز ایبل ماڈل میں تبدیل کردیا جسے پورے امریکا اور پوری دنیا میں منسلک کیا جاسکتا ہے۔

برینڈن کا مزید کہنا تھا، ’’گیس ننجاز اس لیے بھی پر کشش تھی کیونکہ وہ گیس سٹیشن کی نسبت سستے داموں دے رہی تھی اور اسکے ڈلیوری چارجز بھی نہیں تھے۔ ایسا اس لیے تھا کیونکہ ہم گیس ہول سیل ڈیلرز سے خریدتے تھے اور ہمیں سٹیشن کی ضرورت نہیں تھی جس کی وجہ سے ہمارے اخراجات کم تھے اور فری ڈلیوری کے باوجود ہم منافعے میں تھے۔

سادہ پے بھی اسی فارمولے کے تحت کام کرے گی اور بنکوں کے انفراسٹرکچر بائی پاس ہونے کے باعث ہم مالیاتی خدمات بغیر کسی فیس کے فراہم کریں گے اور منافع بھی کمائیں گے۔‘‘

پرافٹ اردو سے بات چیت میں برینڈن ٹمنسکی کا کہنا تھا، ’’ گیس ننجاز کی فروخت کے بعد میں نے امریکا سے باہر ایسے مواقع کی تلاش شروع کی جو یادگار بن جائیں اور اسی تلاش میں میری منزل امریکا کے جنوب میں واقع میکسیکو بنا جہاں آدھی سے زیادہ آبادی بنکنگ نظام سے باہر تھی، میں وہاں کے مالیاتی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا تھا مگر شائد ’ستاروں کی چال‘ کے باعث یہ نہ ہو سکا۔ اس کے بعد انڈونیشیا گیا تاکہ ایشیائی مارکیٹوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکوں‘‘۔

اگرچی میکسیکو اور انڈونیشیا سرمایہ کاری کے لیے بہترین جگہیں ہوسکتی تھیں مگر ٹمنسکی ان سے متاثر نہیں ہوئے اور یہاں سے ہی ان کی پاکستان کی کہانی شروع ہوئی۔

ستمبر 2018ء میں ٹمنسکی کو ان کے کالج کے ایک دوست نے پاکستان آنے کی دعوت دی مگر دیگر غیر ملکیوں کی طرح ان کا بھی میڈیا کی جانب سے پھیلائے گئے تاثر کی وجہ سے پاکستان کے بارے میں تصور کچھ اچھا نہیں تھا لیکن ان کے پہلے دورے نے ان پر انمٹ نقوش چھوڑے۔

برینڈن کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’ پاکستانی بہت مہربان، مددگار اورفیاض ہیں، میں نے پاکستانیوں کو اپنے ملک پر بہت زیادہ فخر کرنے والا پایا ہے اور لوگ میرے شکر گزار تھے کہ میں یہاں آیا، مجھے کبھی کسی دوسری جگہ اس انداز میں خوش آمدید نہیں کہا گیا۔‘‘

اگرچہ پاکستانیوں کی مہمان نوازی تو ہر غیر ملکی کے لیے یادگار رہی ہے مگر یہاں سرمایہ کاری کے بھی وسیع مواقع موجود ہیں۔

ایک ایسا ملک جس کی آبادی کافی زیادہ ہو، لوگوں کی بہت بڑی تعداد بنکنگ نظام سے باہر ہو، آدھی آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہو اور سمارٹ فونز استعمال کرنے والوں کی تعداد تیزی بڑھ رہی ہو وہ برینڈن کی آمد اور سرمایہ کاری کے لیے بہترین تھا۔

برینڈن ٹمنسکی نے اس حوالے سے کہا کہ پاکستان میں روایتی مالیاتی ادارے دہائیوں پرانے نظام پر چل رہے ہیں اور صارفین کے ساتھ ان کا برتائو بھی اچھا نہیں لہٰذا پاکستان کا مالیاتی نظام انقلاب کی طرف بڑھ رہا ہے۔

مزید برآں سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے جدت کو فروغ دینے کی خواہش اور ای منی کے لائسنس جاری کرنا بھی پاکستانی مارکیٹ کو انٹرپرینیورز کیلئے بہترین بناتا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ پوری دنیا سے کاغذٰی کرنسی ختم ہو رہی ہے اور پاکستان میں بھی یہ کچھ ہی دیر کی بات ہے۔

سادہ پے کا آغاز

سادہ پے ایک ڈیجیٹل بینک ہے جو صارفین کو سمارٹ فون ایپ کے ذریعے اکاؤنٹ بنانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اکاؤنٹ کھلوانے والے صارفین کو اے ٹی ایم کارڈ بھی جاری کیا جاتا ہے جو دنیا بھر میں قابل استعمال ہے۔

اس کے عللاوہ سادہ پے پاکستانی فری لانسرز کو غیر ملکی گاہکوں سے رقوم منگوانے کی سہولت بھی فراہم کرے گا۔

برینڈن ٹمنکسی سے جب پوچھا گیا کہ انھوں نے پاکستانی مالیاتی نظام میں کام کرنا ہی کیوں مناسب سمجھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ میں کیش سے نفرت کرتا ہوں اور رقوم کی ترسیل کا پرانے زمانے کا سست نظام مجھے شدید ناگوار گزرتا ہے، میں نے دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مالیاتی نظام میں تبدیلیاں لاتے دیکھا ہے۔

بنک کاغذی رقوم کے لیے بنائے گئے تھے جو چھپنے کے بعد تقسیم ہوتیں تھیں مگر اب زمانہ بدل چکا ہے اور جدید ٹیکنالوجی لوگوں کو رقوم کی الیکٹرانک ترسیل کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ اب مالیاتی خدمات بینکوں کی محتاج نہیں رہیں بلکہ اب تمام کام سمارٹ فون کے گھر بیٹھے ہو سکتے ہیں‘‘۔

برینڈن کہتے ہیں کہ ’سادہ پے‘ کا لوگوں کی زندگیوں پر بہت اثر پڑے گا، اس نکتے کو سمجھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کی مالی حالت بہتر بنانے کے دو طریقے ہیں، اول: اسے کچھ رقم دے دی جائے، دوم: مالی وسائل کے بہتر استعمال میں اس کی مدد کی جائے۔

برینڈن کے مطابق پہلا طریقہ شائد کام کرجائے مگر ایسا وقتی طور پر ہوگا۔ دوسرا طریقہ آنے والی نسلوں کو بھی سنوار سکتا ہے اور یہی ’سادہ پے‘ کا مقصد ہے۔

’سادہ پے‘ کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری کے حجم کے سوال کا برینڈن نے سفاتکاروں کا سا انداز اپناتے ہوئے جواب دیا کہ اس منصوبے کو چلانے کے لیے صرف پیسہ ہی کافی نہیں ہوگا کیونکہ کسی بھی مالیاتی ادارے کو نقطہ آغاز سے کھڑا کرنا آسان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم شکر گزار ہیں کہ ’سادہ پے‘ کو دنیا کے بڑے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل ہے مگر پیسے کی بہتات خطرناک چیز ہے جس کے باعث تمام تر توجہ قلیل مدتی فوائد پر مرکوز ہوجاتی ہے اور طویل مدتی فائدے نظر انداز ہوجاتے ہیں۔

مزید برآں بہت زیادہ پیسہ جمع کرنا موجودہ اور مستقبل کے ٹیم ارکان میں کام کی تحریک اور ترغیب کو کم کردیتا ہے اور یہ چیز مشکل حالات میں بھی دیکھی جاتی ہے۔

’سادہ پے‘ فی الحال لانچ نہیں کی گئی اور اسے سٹیٹ بنک آف پاکستان سے لائسنس درکار ہے جو برینڈن کے مطابق جلد ہی جاری ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سادہ پے‘ کے لیے ٹیم بنانے میں انہیں ایک سال لگا اور اس ٹیم میں انتہائی قابل اور تجربہ کار افراد شامل ہیں۔

برینڈن کے مطابق پاکستان حیرت انگیز طور پر بڑی مارکیٹ ہے جہاں کئی طرح کےمسائل ہیں مگر ’سادہ پے‘ صرف مخصوص مسائل کےحل کے لیے کام کرے گی کیونکہ یہاں بیرون ملک سے ترسیلات زراور فری لانسرز کےلیے غیر ملکی کلائنٹس سے رقوم منگوانے کیلئے کئی طرح کے مسائل موجود ہیں۔

“میں سمجھتا ہوں کہ مستقبل میں مالیاتی خدمات کے لیے منفرد مہارت لازمی ہوگی، عام طور پر مالیاتی ادارے ہر کسی کو کوئی نہ کوئی خدمات فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ کسٹمر کی وفاداری برقرار رکھنے کے حوالے سے نقصان دہ چیز ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے زراعت کا شعبہ اس بنک کیساتھ کام کرنا پسند کرے جو اچھے قرضے دیتا ہو جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا جھکاؤ ایسے مالیاتی ادارے کی جانب ہو جو مالی معاملات جیسا کہ رقوم کی ترسیل اور تنخواہوں وغیرہ کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرتا ہو، ممکن ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت ڈیجیٹل بینکنگ کو ترجیح دیتی ہو۔

اگرچہ برینڈن کا آئیڈیا دلچسپ ہے مگر پاکستان میں اسے مشکلات کا سامنا ہوگا مثلاً خود کو تبدیل نہ کرنے کا رویہ اس آئیڈیا کی راہ میں ایک رکاوٹ بن سکتا ہے تاہم برینڈن ٹمنسکی کا ماضی بتاتا ہے کہ وہ چیزوں کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ ’سادہ پے‘ انکی ایک اور ناکامی بنتی ہے یا کامیابی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here