پاکستان کا قرضوں میں ریلیف سے متعلق عالمی اقدام کیلئے جرمنی اور برطانیہ سے رابطہ

'ترقی پذیر ممالک کے عوام کو کورونا وائرس سے موت یا بھوک کا سامنا ہے، اس سے نمٹنے کے لئے قرضوں میں فوری ریلیف دینا ہوگا'

666

اسلام آباد: پاکستان نے قرضوں میں ریلیف سے متعلق عالمی اقدام کیلئے اپیل کے تناظر میں جرمنی اور برطانیہ سے مدد طلب کی ہے۔ 

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے  کہا کہ کورونا وائرس (کووڈ 19) سے پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے عالمی سطح پر صحت اور معیشت کا بحران سامنے آیا ہے اور ترقی پذیر ممالک مالی استعداد میں کمی اور قرضوں کی واپسی کے حوالے سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے عوام کو کورونا وائرس سے موت یا بھوک کا سامنا ہے، اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے ترقی پذیر ممالک کی قابلیت کا انحصار قرضوں میں فوری ریلیف پر ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے: 

کورونا، معیشت سنبھالنے کے لیے حکومت قرضے ری شیڈول کروانے کی کوشش کرے: معاشی ماہرین

’کورونا وائرس سے ترقی پذیر معیشتیں تباہ ہو سکتی ہیں، دنیا قرضے معاف کرنے پر غور کرے‘

عالمی تجارت میں 32 فیصد کمی متوقع، ترقی پذیر معیشتوں سے 100 ارب ڈالر کا انخلاء

وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ جرمنی جیسے ممالک اس معاملے پر آئندہ ہونے والے جی 20 ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس اور موسم بہار کے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اجلاسوں میں اس معاملے پر قائدانہ کردار ادا کریں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا برطانوی ہم منصب سے رابطہ

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈومینک راب سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی صحت یابی پر مبارکباد دی اور برطانوی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے حالیہ وباء کے سبب برطانوی شہریوں کے کثیر جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں طبی عملہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کورونا وباء سے متاثر مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہے۔

وزیر خارجہ نے برطانوی ہم منصب کو آگاہ کیا کہ پاکستان اب تک 7734 برطانوی شہریوں کو پی آئی اے کی 23 خصوصی پروازوں کے ذریعے برطانیہ بھجوا چکا ہے اور واپسی کے خواہاں دیگر شہریوں کو بھی جلد برطانیہ روانہ کر دیا جائے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے لیکن ترقی پذیر ممالک کیلئے اس چیلنج سے نمٹنا انتہائی کٹھن ہے، اسی تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے ترقی پذیر ممالک کے واجب الادا قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ یہ ممالک اپنے وسائل قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔

ہمیں توقع ہے کہ برطانیہ جی 20 کا اہم اور فعال رکن ہونے کے ناطے اس تجویز کو آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے قرضوں کی ری سٹریکچرنگ کے حوالہ سے دی گئی تجویز کا خیرمقدم کیا۔ دونوں وزراء خارجہ نے کورونا عالمی وبائی چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹنے کیلئے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here