رواں سال پاکستان کے جی ڈی پی کی شرح نمو میں مزید کمی کا امکان، سٹیٹ بینک کی دوسری سہ ماہی رپورٹ جاری

'رواں سال مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد رہنے کی توقع، اقتصادی استحکام اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی حکومتی کوششوں کے مثبت نتائج نکلے'

274

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کے روز مالی سال 2020 میں ترقی کی شرح پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے جی ڈی پی میں آئندہ مہینوں میں مزید کمی ہو گی۔

مرکزی بینک کی مالی سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں پاکستان کی معیشت سے متعلق رپورٹ کے مطابق رواں سال حقیقی ترقی کی شرح کا چار فیصد ہدف حاصل کرنا غیر متوقع تھا کیونکہ زراعت کی کارکردگی توقع سے کم رہی جبکہ مقامی مارکیٹ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے برآمداتی شعبہ بھی خاطر خواہ ترقی نہیں کرسکا۔

تاہم رپورٹ کے مطابق معاشی استحکام کی کوششوں اور ریگولیٹری سے متعلق اقدامات کے باعث واضح بہتری دیکھنے میں آئی اور مالی سال کی پہلی ششماہی میں مختلف شعبوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ “کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھ سال کی کم ترین سطح پر رہا، زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، پرائمری بجٹ میں اضافہ ہوا اور بنیادی افراطِ زر میں کچھ کمی ہوئی برآمداتی مینوفیکچرنگ میں تیزی کے آثار دکھائی دیے اور تعمیرات کی سرگرمیاں بڑھ گئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہے”۔

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیشرفت درست سمت میں گامزن رہی اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے زیر جائزہ مدت کے دوران پاکستان کا مستحکم منظر نامہ برقرار رکھا۔

مزید بہتری کے لیے معیشت کو پائیدار نمو کی راہ پر مضبوطی سے گامزن کرنے کے لیے دیرپا اصلاحات درکار ہوں گی، جہاں تک ادائیگیوں کے توازن کا تعلق ہےتو رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جاری کھاتوں میں بہتری زیادہ تر درآمدی بل میں کمی کے باعث سے آئی جبکہ اس میں برآمدات سے حاصل شدہ آمدن کا حصہ قدرے کم رہا۔

برآمدات کے حجم میں ہونے والا فائدہ اجناس کی عالمی منڈی میں کم قیمتوں کے سبب جزوی طور پر زائل ہوگیا، ٹیلی مواصلات کے شعبے کو چھوڑ کر براہ راہ راست بیرونی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی آنے والی رقوم تقریبا گذشتہ سال کی سطح پر ہی رہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

اپریل میں غیرملکی سرمایہ کاری کے انخلا سے ٹریژری بلز کم ہو کر412 ملین ڈالر رہ گئے،سٹیٹ بینک

سٹیٹ بینک کے اقدامات سے کاروباروں کو سنبھلنے میں مدد ملے گی

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک میں مزید براہ راست بیرونی سرمایہ کاری لانے اور اس کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھنے کی ضرورت ہے، مالی سال 2019ء کی پہلی ششماہی میں مالی خسارے کے باعث ترقی کی شرح 2.7 فیصد سے کم ہو کر رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 2.3 فیصد ہو گئی۔

معیشت میں سست روی اور درآمدات میں کمی کے باوجود محصولات میں نمایاں اضافہ ہوا، ٹیکس رعایات کے خاتمے اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے محصولات کی وصولی میں اضافہ کرنے میں مدد ملی۔

تاہم مجموعی محصولات کا ہدف حاصل نہ ہوسکا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس بیس میں اضافہ کرنے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی کوششوں کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں شعبہ زراعت سے متعلق مسائل کو مزید اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ شعبہ پانی کی محدود دستیابی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل سے نمٹنے کی کم صلاحیت رکھتا ہے۔

خاص طور پر کپاس کی فصل ناسازگار موسم، وبائی حملوں اور پانی کی کم دستیابی سے متاثر ہوئی، اگرچہ گندم کی فصل حوصلہ افزا ہے تاہم کپاس کی پیداوار میں کمی سے مالی سال 2020 کے دوران شعبہ زراعت کی کارکردگی کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

تاریخی لاک ڈائون کے باعث عالمی معیشت کی شرح نمو میں 3 فیصد گراوٹ متوقع

عالمی تجارت میں 32 فیصد کمی متوقع، ترقی پذیر معیشتوں سے 100 ارب ڈالر کا انخلاء

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان میں مجموعی مسابقتی ماحول پیداواریت اور نمو کو بڑھانے کے اعتبار سے ناسازگار رہا ہے۔ اس تناظر میں معیشت کے اصلاحاتی ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

سرکاری شعبے کا کردار عام طور پر ساختی اصلاحات کے ذریعے مارکیٹ کی ناکامیوں سے نمٹنے اورصرف کاروباری اداروں کو وسیع تر شعبہ جاتی تعاون کی فراہمی تک محدود ہونا چاہیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ملک کو غیر معمولی مسائل کا سامنا ہے، عالمی معیشت کے اثرات اور ملک میں اس وباء کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات سے یقینی طور پر معاشی سرگرمیوں اور طلب و رسد پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

چونکہ صورت حال مسلسل بدل رہی ہے اور بے حد غیر یقینی ہے، اس لیے معاشی منظر نامہ وبا کے پھیلاؤ سے پہلے کے تخمینوں کے مقابلے میں کافی کمزور دکھائی دیتاہے۔ لہٰذا اس صورت حال میں حکومت اور سٹیٹ بینک نے معیشت پر کورونا وائرس کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

ان اقدامات میں بھاری مالیاتی اخراجات کے پروگرام، ٹیکسوں میں نرمی اور تعمیراتی صنعت کو دی گئی ترغیبات شامل ہیں۔ جہاں تک سٹیٹ بینک کا تعلق ہے، مارچ 2020 میں 8 دن کی مدت میں زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں225 بیسس پوائنٹس کٹوتی کی۔

مزید برآں سٹیٹ بینک نے قرض لینے والوں کو قرضوں کی اصل رقم کی واپسی میں ایک سال کی مہلت، ملازمین کو برطرف نہ کرنے والے کاروباری اداروں کو رعایتی فنانسنگ کی پیشکش، کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی نگہداشت کرنے والے ہسپتالوں کی استعداد بڑھانے کے لیے رعایتی فنانسنگ کی فراہمی، عوام کی مالی خدمات تک رسائی میں سہولت، درآمد و برآمد کنندگان کے لیے ادائیگی کے طریقوں کو آسان بنانے سمیت کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here