کورونا، گلگت بلتستان میں مارخور سمیت نایاب جانوروں کے شکار کا پروگرام منسوخ

ٹرافی ہنٹنگ پروگرام حکومت اور مقامی رہائشیوں کے لیے کمائی کا بڑا ذریعہ، رواں برس پروگرام کے تحت شکار کے 124 لائسنس جاری کیے گئے تھے، مارخور کے شکار کا لائسنس 80 ہزار ڈالر، بھرل کے شکار کا لائسنس 81 ہزار ڈالر جبکہ پہاڑی بکرے کے شکار کا لائسنس 50 ہزار ڈالر میں نیلام ہوا تھا۔

226

اسلام آباد: گلگت بلتستان کی حکومت نے مختلف جانوروں کے ٹرافی ہنٹنگ پروگراموں پر پابندی عائد کر دی۔

اگرچہ یہ پروگرام مارخورم بھرل، پہاڑی بکروں وغیرہ کے شکار سے متعلق ہوتے ہیں اور ان سے گلگت بلتستان کی حکومت کو ہر سال قابل ذکر آمدنی ہوتی ہے مگر کورونا وائرس کے باعث اس برس ان پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

چیف کنزرویٹر فارسٹ پارکس اینڈ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق  شکار کے ان پروگراموں میں مقامی و غیر ملکی شکاری، ٹور آپریٹرز، محکمے کے فیلڈ سٹاف، ٹرانسپورٹرز، ہوٹل اور علاقے کے رہائشیوں کا عمل دخل ہوتا ہے لہذا کورونا وائرس کے باعث ان کی اجازت دینا ممکن نہیں۔

نوٹی فکیشن کے مطابق شکاریوں کو پروگراموں کی منسوخی کے باعث پرمٹ فیس واپس کردی جائے گی اور جاری کیے گئے پرمٹ اگلے سیزن کےلیے کارآمد نہیں ہونگے۔

اس نوٹی فکیشن کے جاری ہونے سے پہلے پچھلے ماہ ایک روسی شکاری شرکوو ایوگینے کی جانب سے استور مارخور کا شکار کیا گیا تھا جو اس سال کے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کا چوتھا شکار تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

ہم معاشی بحران کا شکار ہو چکے: آئی ایم ایف کی سربراہ

پاکستانی سٹارٹ اپس کیلئے اچھی خبر، سرمایہ کاری کیلئے دو نئی فرمز میدان میں ۔۔۔

چین: رواں سال مزید 1 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنے کا ہدف

وائلڈ لائف  ڈیپارٹمنٹ کے مطابق روسی شہری نے اس شکار کے لیے 82 ہزار 500 ڈالر کے عوض پرمٹ حاصل کیا تھا۔ اس شکار کےلیے چار پرمٹ جاری کیے گئے تھے تاہم روسی شہری نے  700 فٹ کے  فاصلے سے 49 انچ لمبے سینگوں والے مارخور کو نلت گاؤں کے علاقے میں مار گرایا۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت نے نومبر 2019 میں شروع ہونے والے ہنٹگ پروگرام کے لیے 124 پرمٹ جاری کیے تھے اور یہ پروگرام رواں برس کے وسط تک چلنا تھا جبکہ پرندون کے شکار کا پروگرام اس سال 30 اپریل تک چلنا تھا۔

حکومت کی جانب سے نایاب جانوروں کے شکار کے لیے بھی لائسنس جاری کیے گئے تھے جس میں چار مارخور، 20 بھرل  اور 100 ہمالیائی بکروں کے شکار کے لائسنس شامل تھے۔

دستاویزات کے مطابق مارخور کے شکار کا لائسنس 80 ہزار ڈالر، بھرل کے شکار کا لائسنس 81 ہزار ڈالر جبکہ پہاڑی بکرے کے شکار کا لائسنس 50 ہزار ڈالر میں نیلام ہوا۔

ٹرافی ہنٹنگ کے اس پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی آمدنی کا 80 فیصد حصہ مقامی رہائشیوں میں تقسیم ہوجاتا ہے جبکہ 20 فیصد حکومت اپنے پاس رکھتی ہے۔

یہ پروگرام  نومبر سے مئی تک جاری رہتا ہے کیونکہ مارخور سرد علاقے میں رہنا پسند کرتے ہیں اور عموماً 8 ہزار سے 11ہزار فٹ کی اونچائی پر پائے جاتے ہیں تاہم سردیوں میں یہ 5 سے 6 ہزار فٹ کی اونچائی ہر آجاتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here