لاک ڈائون میں توسیع کے باوجود تین صوبوں کے تاجروں کا کل سے کاروبار کھولنے کا اعلان

'لاک ڈائون کی وجہ سے فاقوں کی نوبت آچکی، حکومت نے بزور قوت کاروبار بند کرانے کی کوشش کی تو دھرنا دیں گے'

380

لاہور: وفاقی حکومت کی جانب سے لاک ڈائون میں مزید دو ہفتوں کی توسیع کے باوجود سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے تاجروں نے کل (15 اپریل) سے کاروبار کھولنے کا اعلان کردیا۔

تاہم پنجاب کے تاجروں نے حکومت سے محدود وقت کیلئے کاروبار کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پنجاب کے علاوہ باقی تینوں صوبوں کے تاجروں کی جانب سے کاروبار کھولنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب منگل کی شام قوم سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک بھر میں لاک ڈائون مزید دو ہفتوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کی توسیع کا اعلان کردیا، انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے بدستور بند رہیں گے جب کہ عوامی مقامات پر بھی لاک ڈاؤن برقرار رہے گا تاہم معیشت میں گراوٹ اور بیروگاری کے خدشے کے پیش نظر کنسٹرکشن سمیت چند صنعتوں کو کھولنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

وزیراعظم مزید کہا کہ مجھے لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دار اور روز کمانے والوں کی پریشانیوں کا اندازہ ہے، لوگ بڑی تعداد میں بے روزگار ہو رہے ہیں اس لیے کنسٹرکشن سمیت کچھ صنعتوں کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر کراچی کی تاجر تنظیموں کے رہنماؤں نے 15 اپریل سے صوبے بھر میں کاروبار کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔

تاجررہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو گھروں میں بٹھانے میں مکمل طورپرناکام رہی، اگر حکومت سنجیدہ ہے تو لاک ڈاؤن نہیں کرفیو لگائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سوچ سمجھ کرفیصلہ کرے۔ گزشتہ 28 روز سے ہمارا کاروبار بند ہے، کراچی سے کشمورتک تاجروں کی حالت بد تر ہے، کسٹم ڈیمریج اور اسکولوں کی فیسوں میں کمی پر کوئی عمل درآمد نہیں ہورہا۔

تاجر تنظیم کے نمائندوں نے کہا کہ وہ مزید کاروباری بندشیں برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ انہوں نے ملازمین کو تنخواہیں دینی ہیں لیکن لاک ڈائون بڑھائے جانے کی صورت میں تنخواہوں کی ادائیگی مشکل ہو جائے گی۔

کراچی کے تاجروں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے بزور قوت کاروبار بند کرانے کی کوشش کی تو وہ اپنی دکانوں کی چابیاں حکام کے حوالے کرکے وزیر اعلیٰ ہائوس کے باہر دھرنا دیں گے۔ ہم نے اپنے فیصلے سے سندھ حکومت کو آگاہ کردیا ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا میں یونائٹڈ بزنس گروپ کے صدر الیاس بلور نے کہا ہے کہ لاک ڈائون مزید برداشت نہیں کرسکتے، کل (بدھ) سے کاروبار شروع کر دیں گے کیونکہ لاک ڈائون کی وجہ سے چھوٹے تاجروں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آچکی ہے اور کاروبار بند ہونے سے مزدور طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here