رواں سال پاکستان کے جی ڈی پی کی شرح نمو میں 1.3 فیصد کمی کی پیشگوئی

رواں مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 11.80 فیصد رہے گی، اس کے بعد بتدریج کمی آئے گی: ورلڈ بینک کی رپورٹ جاری

302

اسلام آباد: ورلڈ بینک نے کورونا وائرس کے جنوبی ایشیا کی معیشت پر اثرات سے متعلق رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں کہا ہے کہ رواں سال پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو میں ایک اعشاریہ تین فیصد کمی ہو گی تاہم آئندہ سال اس میں بہتری آنے کا امکان ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث عالمی سطح پر معاشی سرگرمیوں کی بندش کے باعث گزشتہ چار ماہ سے پاکستان کی معیشت پر بھی برا اثر پڑا ہے اور یہ اثرات رواں سال کے آخر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران پاکستانی نے معاشی استحکام کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور حکومتی پالیسیوں کے باعث اندرونی اور بیرونی خسارے کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جناب وزیراعظم! آپ غلط کہتے ہیں، پاکستان لاک ڈائون کا متحمل ہو سکتا ہے مگر اس پلان کے تحت ۔۔۔

رپورٹ میں بتایا کہ مالی سال 2021 میں شرح نمو 0.9 فیصد رہے گی  جبکہ مالی سال 2022 میں 3.2 فیصد رہے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 11.80 فیصد رہے گی اور  اس کے بعد بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 1.9 فیصد رہے گا جبکہ درآمدات میں بھی کمی ہوگی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برآمدی نمو  مالی سال 2021 میں منفی رہے گی تاہم مالی سال 2022 میں برآمدی نمو 6.7 فیصد رہے گی۔

اسی طرح رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے بعد جیسے ہی صنعتیں کام شروع کریں گی تو پاکستان کی برآمدات آہستہ آہستہ بحال ہو جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے: کورونا وائرس، لاک ڈائون سے پاکستان میں کساد بازاری کا خدشہ 

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں معاشی سست روی کے باعث وہاں مقیم پاکستانیوں کی آمدن بھی متاثر ہوگی جس سے پاکستان کی ترسیلات زر میں کمی کا امکان ہے اور یہ رواں سال ساڑھے چھ فیصد جبکہ آئندہ سال چھ فیصد رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال پاکستان کا مالیاتی خسارہ 9.5 فیصد جبکہ آئندہ سال 8.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ عالمی بینک نے کورونا وائرس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کی معیشت میں تنزلی کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کی معیشت کی رفتار اندازوں سے 4 فیصد کم رہے گی۔

عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاک ڈاؤن کے باعث جنوبی ایشیا میں معیشت کا پہیہ رک گیا ہے اور وہاں 8 ممالک میں کاروبار معطل ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here