ایشیائی ترقیاتی بنک  کا کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مالی معاونت 20 ارب ڈالر تک بڑھانے کا اعلان

بنک نے 18 مارچ کو رکن ممالک کیلئے 6.5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کااعلان کیاتھا، صحت عامہ کے شعبوں میں فوری امداد کیلئے مزید13.5 ارب ڈالر دینے کی منظؤری

219

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بنک (اے ڈی بی) نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے معاونت کوتین گنا تک بڑھانے کااعلان کردیاہے، بنک نے مالیاتی تعاون کی فراہمی میں آسانیاں فراہم کرنے کیلئے متعدد اقدامات کی منظوری بھی دی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بنک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیاہے کہ کوروناوائرس سے نمٹنے کیلئے ترقی پذیرممالک کیلئے مالی تعاون کے پیکج کو20 ارب ڈالر تک بڑھا دیاگیاہے،بنک نے 18 مارچ کو ممبرممالک کیلئے 6.5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کااعلان کیاتھا۔

 رکن ممالک میں کلی معیشت پرپڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے اورصحت عامہ کے شعبوں میں فوری امداد کے ضمن میں مزید13.5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سے 2.5 ارب ڈالر رعایتی قرضے بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

ایشیائی ترقیاتی بنک کے دو سالہ 4.5 ارب ڈالر کے بانڈز کی فروخت

کورونا، اسٹیٹ بنک نے قرض داروں کے لیے ریلیف پیکج چھ اسکیموں تک بڑھا دیا

کورونا وائرس: ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کا آئی ڈی اے رکن ممالک سے قرض واپسی موخر کرنے پراتفاق

بنک کے صدرمسات سوگوآساکاوانے کہاہے کہ عالمگیروباء نے ایشیاء اوربحرالکاہل کے خطے میں اقتصادی،سماجی اورترقیاتی پیش رفت پرشدیدمنفی اثرات مرتب کئے ہیں، اس کے نتیجہ میں غربت کے خاتمہ کی کوششوں کونقصان پہنچاہے جبکہ کئی معیشتیں کسادبازاری کاشکارہوچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بنک نے رکن ممالک کومعاونت کی جلد اورآسان فراہمی کیلئے کئی اقدامات کی منظوری دی ہے، ان اقدامات کے نتیجہ میں رکن ممالک میں سرکاری اورنجی شعبہ کووباء سے نبردآزماہونے میں تعاون فراہم کیا جائیگا۔

ان کا کہنا تھا کہ  نئے اقدامات میں کوویڈ 19 پینڈیمک رسپانس آپشن بھی شامل ہے جس کے تحت رکن ممالک کو مجموعی طورپر13 ارب ڈالرکی مالی معاونت فراہم کی جائیگی، ان میں سے بیشترمالی تعاون معاشرے کے کمزورطبقات کوامدادکی فراہمی پرخرچ ہوں گے تاکہ وباء کے منفی اثرات کو کم سے کم کیاجاسکے۔اسی طرح نجی شعبے کیلئے 2 ارب ڈالرکی مالی معاونت فراہم کی جائیگی۔

انہوں نے کہاکہ  رکن ممالک کو مالی معاونت میں عالمی بنک اوراقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ تعاون اورمشاورت شامل ہوں گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here