گوگل اور ایپل مشترکہ طور پر کورونا کا پھیلاؤ سست کرنے کے لیے ٹیکنالوجی بنائیں گے

بلیو ٹوتھ شعاعوں کے ذریعے ایک فون اپنے قریبی فونوں سے متعلق معلومات ریکارڈ کرسکے گا، وائرس سے متاثرہ شخص اپنے فون کے قریب موجود دوسرے موبائل فونز کا ڈیٹا گوگل اور ایپل کو بھجوائے گا جس سے ان افراد کی فوری ٹیسٹنگ کی جاسکےگی اور قرنطینہ بھیجا جا سکے گا۔

88

کورونا وائرس کے پھیلاو کوکم کرنے کے لیے ایپل اور گوگل نے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دونوں کمپنیوں کا کہنا تھا کہ وہ مشترکہ طور پر ایسی ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہیں جس کے ذریعے لوگ اپنے قریب موجود دوسرے فون میں مداخلت کرسکے گے۔

دونوں کمپنیوں کے تیار کردہ نظام کی مدد سے ایسے افراد جن کے وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہو کا پتہ چلا کر ان کا ٹیسٹ کیا جاسکے گا اور انہیں قرنطینہ میں منتقل کیا جاسکے گا۔

یہ نظام دنیا میں پہلےسے موجود نظاموں سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا اوراس سے وائرس کو پھیلاو کو روکنے میں بہتر انداز میں مدد ملے گی۔

سسٹم کے کارآمد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس پر بھروسہ کرکے اسکا حصہ بنیں۔ ایپل اور گوگل کا کہنا ہے کہ دونوں کمپنیوں نے اس ٹیکنالوجی پر دو ہفتے قبل کام شروع کردیا تھا تاکہ دونوں کمپنیوں کے آپریٹنگ سسٹمز میں فرق کواس سے ہم آہنگ بنانے پر کام کیا جاسکے۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے موبائل فون منفرد قسم کی بلیو ٹوتھ شعاعیں خارج کریں گے اور چھ فٹ کے فاصلے پر موجود دوسرے فون ان شعاعوں میں موجود اجنبی میل جول کے بارے میں معلومات کو ریکارڈ کرسکیں گے۔

اس سسٹم کے ذریعے وہ لوگ جن کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا ہو گا وہ گوگل اور ایپل کو ان فونز کی فہرست بھجوا سکیں گے جن کے وہ قریب گئے ہونگے۔ اس اطلاع سے وہ وہ لوگ جو متاثرہ افراد کے قریب رہے ہونگے انہیں خبردار کیا جسکے گا۔

تاہم اس سسٹم کے ذریعے متاثرہ افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس سے مقابلے کے لیے گوگل کا 800 ملین ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان

کورونا وائرس، آئی فونزکی سپلائی متاثر ،ایپل کو آمدن میں کمی کا سامنا

کورونا وائرس: ایمازون کا ملازمین کی ٹیسٹنگ کے لیے لیبارٹری بنانے کا اعلان

دونوں کمپنیوں کی جانب سے مئی کے وسط میں یہ ٹیکنالوجی اسے استعمال کرنے والی ایپس اور محکمہ صحت کو منظوری کے لیے فراہم کردی جائے گی۔

ایپس اس ٹیکنالوجی کا صارفین اور محکمہ صحت کے کارکنان  کے لیے استعمال آسان بنائیں گی جبکہ پرائیویسی کے معمالات گوگل اور ایپل کے کنٹرول میں ہونگے ۔

ایپل اور گوگل اس ٹیکنالوجی کو اپنے اگلے اپ ڈیٹ میں جاری کریں گے اور صارفین کو اسے استعمال کرنے کے لیے کوئی نئی ایپ انسٹال نہیں کرنا پڑے گی۔

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ان علاقوں میں دستیاب نہیں ہونگی جہاں اسکی سروسز بلاک ہیں اسکے علاوہ غیر منظور شدہ ڈیوائسز میں بھی اسکا استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔

یہ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر نقل و حمل کیساتھ منسلک ہے اور جنوبی کوریا میں اس قسم کی ٹکینکالوجی کی مدد سے کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنےمیں زبردست مدد ملی ہے۔

تاہم امریکی صدر کا گوگل اور ایپل کے اس منصوبے بارے کہنا تھا کہ اس منصوبے سے پرائیویسی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور ہم اس چیز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here