کورونا کے باوجود بیرون ملک سے ترسیلات زر میں ایک ماہ میں 9.3 فیصد اضافہ

140

اسلام آباد: کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک میں لاک ڈائون اور کاروباری بندشوں کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے جس سے بیرون ممالک مقیم پاکستانی بھی بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں تاہم پھر بھی ایک ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مارچ 2020ء کے دوران سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر کی وصولی میں 9.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق مارچ 2020ء کے دوران 1.89 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئی ہیں جبکہ مارچ 2019ء کے دوران سمندر پار پاکستانیوں نے 1.73 ارب ڈالر پاکستان بھیجے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: 

کورونا وائرس: متحدہ عرب امارات میں 10 ہزار پاکستانی نوکریوں سے فارغ

کورونا وائرس، دنیا میں ایک ارب 25 کروڑ لوگوں کے روزگار کو خطرہ

امریکا میں کورونا وائرس کے باعث 66 لاکھ سے زیادہ ورکرز بے روزگار

اس طرح مارچ 2019ء کے مقابلہ میں مارچ 2020ء کے دوران ترسیلات زر کی وصولی میں 16 کروڑ ڈالر یعنی 9 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔۔

اگر گزشتہ سہ ماہی کا جائزہ لیا جائے تو رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران ترسیلات زر میں 6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020 کے گزشتہ 9 ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 16 ارب 99 کروڑ ڈالر موصول ہوئے جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 16 ارب ڈالر تھے۔

مارچ میں بھی آمدنی سال بہ سال 9.28 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ارب 89 کروڑ ڈالر ہوگئی جو 2019 کے اسی مہینے میں ایک ارب 73 کروڑ ڈالر تھی جبکہ فروری میں 3۔ 78 فیصد سے ایک ارب 82 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب ایک مرتبہ پھر سرفہرست رہا جہاں سے سب سے زیادہ ترسیلات زر آیا۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے 3 ار ب 92 کروڑ ڈالر موصول ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے وصول ہونے والا ترسیلات زر 4 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ارب 55 کروڑ ڈالر رہا۔

امریکا تیسرے نمبر رہا جہاں سے ترسیلات زر جولائی تا مارچ کے دوران 17.4 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 88 کروڑ ڈالر ہے، اسی طرح برطانیہ سے طور پر 2 ارب 55 کروڑ ڈالر آئے ملائیشیا سے وصول ہونے والے ترسیلات زر ایک ارب 16 کروڑ ڈالر تھے ۔

خلیجی ممالک میں ہزاروں پاکستانی ملازمت سے محروم ہوچکے ہیں جبکہ متعدد کو تنخواہوں میں کمی کا سامنا ہے۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں دس ہزار پاکستانی کارکنوں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here