جرمن کمپنی سیمنز کی کورونا کے باعث ملازمین کو برطرف کرنے کی تردید

407

زیورخ: جرمنی کی ہوم اپلائنسز کمپنی سیمنز (Siemens) نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے معاشی حالات کے باعث کسی ملازم کو نوکری سے نہیں نکالیں گے۔ 

بین الاقوامی کمپنی سیمنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) جو کیسئر (Joe Kaeser) نے مقامی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ “کاروباری سرگرمیوں میں عارضی اتار چڑھاؤ کے باوجود کوئی ایک بھی ملازم نوکری نہیں چھوڑے گا”۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی نے ابھی تک کورونا کے باعث حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے کچھ تبدلیاں کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

جرمن سافٹ وئیر کمپنی نے سوائن فلو پھیلنے کے خوف سے بھارت میں دفاتر بند کردیے

غیر یقینی بڑھنے سے ٹیکنالوجی کمپنیاں ملازمین کو نکالنے لگیں، تنخواہوں میں بھی کٹوتیاں

سی ای او سیمنز کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کا بحران عارضی ہے اور ہم سب مل کر اس سے نمٹیں گے۔ جلد ہی بحران ختم ہو جائے اور چیزیں دوبارہ معمول پر آجائیں۔

حفاظتی اقدامات کے باعث سیمنز محدود سٹاف کے ساتھ کاروباری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، کمپنی کے ایک لاکھ 20 ہزار ملازمین میں سے صرف 1600 ملازمین قلیل وقت کے لیے کام کر رہے ہیں تاہم کمپنی نے کسی ملازم کو نوکری سے نکالنے کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ کورونا بحران کی وجہ سے دنیا میں بے روزگاری کا طوفان جنم لے رہا ہے، امریکا میں 66 لاکھ افراد نے حکومت کے بے روزگار افراد کیلئے جاری کیے جانے والے پیکج کے حصول کیلئے اپلائی کیا ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے باعث دنیا بھر میں ایک ارب 25 کروڑ افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here