قیمتوں کو استحکام بخشنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے ممالک معاہدے کے لیے کوشاں

تیل پیدا کرنے والےممالک تیل کی گرتی قیمتیں سنبھالنے کے لیے پیدوار میں کمی کی ضرورت پر متفق، امریکا نے عالمی پیداوار میں یومیہ 15 ملین بیرل اور روس نے 10ملین بیرل کمی پر آمادگی ظاہر کردی

106

اوپیک اور روس سمیت تیل پیدا کرنے والے ممالک تیل کی پیداور کی قیمتوں میں استحکام لانے کےلیے کسی ڈیل تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔

جمعرات 10 اپریل  2020 کو اسی سلسلے میں بذریعہ ویڈیو کانفرنس ایک اجلاس بلایا گیا اور تیل کی قیمتوں میں کمی کے آگے بند باندھنے کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا گیا۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کےسے بچاؤ اور اسکا پھیلاؤ روکنے کے لیے دنیا بھر میں لاک ڈٓاون کی کیفیت کے باعث تیل کی مانگ میں زبردست کمی آئی جو کہ اسکی قیمتوں میں کمی کا باعث بنی۔

اس صورتحال تیل کی پیداوار میں کمی کا مطالبہ روس نے ماننے سے انکار کردیا جس پر سعودی عرب نے روس کیساتھ قیمت کی جنگ چھیڑ دی جو تیل کے نرخوں میں تاریخی کمی کا باعث بنی ۔

مگر اب تیل پیدا کرنے والے ممالک کی کوششوں سے روس اور سعودی عرب جاری تنازعے کے تصفیے اور گرتی قیمتوں کو استحکام دینے کے اقدامات کے حوالے سے بات چیت پر تیار ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس: تیل کی عالمی صنعت سے وابستہ 300 ملین افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق

عالمی وبا کی وجہ سے قیمتیں گرنے سے تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی مشکلات کا شکار

روس سعودی تنازعہ ختم ہونے کا امکان، تیل کی قیمتیں پھر بڑھ گئیں

 امریکہ جو اس وقت تیل کی پیداوار میں سر فہرست ہے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی  کے لیے پیداوار میں کمی ضروری ہے اور اس مقصد کے لیےعالمی پیداوار میں یومیہ 15 ملین بیرل یا 15 فیصد کمی کی جاسکتی ہے۔

مگر ماہرین ٹرمپ کی بات کو قابل عمل قرار نہیں دیتے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن  کا بھی تیل کی قیمتوں کو سہارا دینے کے لیے پیداوار میں کمی کے لیے امریکا اور سعودی عرب سے تعاون پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انکا ملک تیل کی یومیہ پیداوار میں 10 ملین بیرل کمی کا حامی ہے۔

یاد رہے کہ روس اور اوپیک کے درمیان سمجھوتہ نہ ہو پانے کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈی میں سپلائی کی بہتات ہوگئی تھی اور روس کسی صورت سپلائی اور پیداوار میں کمی پر راضی نہیں تھا جس کی بنیادی وجہ یہ خوف تھا کہ ایسا کرنا امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کا باعث ہوگا۔

روس کے اقدام نے سعودی عرب کو شدید اشتعال دلایا اور اس نے رد عمل میں پیداوار کم کرنے کی بجائے بڑھا دیں اور اپنے تیل کی قیمت میں بھی کمی کردی۔

اس ساری صورتحال میں جمعرات 10 اپریل 2020 کو تیل کی قیمتوں کا احوال یہ تھا کہ برینٹ کروڈ 34 ڈالر فی بیرل اور امریکی ویسٹ ٹیکساس خام تیل 27 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا تھا جو کہ سال کے آغاز کی نسبت 50 فیصد کم تھا۔

روس جس کا کمائی کے لیے انحصار تیل پر ہے اس ساری صورتحال سے بری طرح متاثر ہوا، اسکی کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوئی، برآمدات کی لاگت بڑھی اور مہنگائی میں زبردست اضافہ ہوا۔

اسی باعث اب روسی وزارت توانائی نے ملک کی تیل کی پیدوار میں 14 فیصد یعنی 1.6 ملین بیرل کمی پر آمادگی کا اظہار کردیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here