کورونا کے باعث 2020میں عالمی تجارت ایک تہائی رہ جائے گی: عالمی ادارہ برائے تجارت

وائرس کے باعث نقل و حمل پر پابندی، کاروبار کی بندش سے معاشی سست روی 2008-09 کی کسادی بازاری سے بد تر، رواں برس عالمی تجارت میں دو عددی گراوٹ دیکھنے میں آئے گی: ڈبلیو ٹی او

88

عالمی ادارہ برائے تجارت نے کورونا کے معاشی قہر ڈھانے بارے خوفناک خبر دے دی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سن 2020  میں کورونا وائرس سے نبرد آزما دنیا کی تجارت میں 13 سے  32 فیصد تک گراوٹ کا اندیشہ ہے۔

عالمی ادارے کے سربراہ روبرٹو ازی ویڈو کے مطابق “ہوسکتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کی تاریخی کساد بازاری یا معاشی گراوٹ دیکھیں”۔

ڈبلیو ٹی او  WTO) ) کا کہنا تھا کہ عالمی طور پر معاشی سرگرمیاں 2019 میں ہی سست روی کا شکار ہوگئی تھیں مگر اب  2020 میں مہلک وائرس 14 لاکھ لوگوں کو متاثر اور 80 ہزار کو جان سے مار چکا ہے اور حکومتیں اس سے بچاو کے لیے سخت گیر اقدامات کر رہی ہیں۔

دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کو گھروں میں رہنے کی ہدایت ہے اور معاشی سرگرمیاں ساکت ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس: متحدہ عرب امارات میں 10 ہزار پاکستانی نوکریوں سے فارغ

تجارتی پابندیاں، ذخیرہ اندوزی: یورپی ہسپتالوں میں کورونا کی ادویات کی کمی سنگین ہوگئی

ہواوے امریکہ میں مصنوعات فروخت کا حق رکھنے کے حوالے سے مقدمہ ہار گئی

عالمی ادارہ برائے تجارت نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تجارت جو پہلے ہی تجارتی پابندیوں اور بریگزٹ کے باعث غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھی اسکے حجم میں اس برس دو عددی گراوٹ دیکھنے میں آسکتی ہے۔

عالمی تجارت میں ڈرامائی گراوٹ

کورونا سے پہلے تجارتی جنگ اور غیر یقینی کے باعث 2018 میں 2.9 فیصد بڑھنے والی عالمی تجارت میں 0.1 فیصد کی معمولی گراوٹ دیکھنے میں آئی اور دنیا کی برآمدات کا حجم تین فیصد کم ہو کر 18.89 کھرب ڈالر ہوگیا تھا۔

لیکن پھر صورتحال نے مہلک کورونا وائرس کے باعث پلٹا کھایا جب پہلے پہل یہ وائرس چین میں سامنے آیا۔

معاشی سرگرمیاں اس وائرس کی آمد کے بعد اس بری طرح متاثر ہوئیں کہ صورتحال کا  2008-09 کی کساد بازاری سے موازنہ کرنے والے مانتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کہیں زیادہ بدتر ہے۔

وائرس سے بچاو کے لیے نقل و حمل کی پابندی، سماجی دوری ، کاروباروں کی بندش نے معیشتوں کا کچومر نکال دیا ہے اور عالمی ادارہ تجارت ترقی کو ایک غیر یقینی بات بتاتا ہے۔

مگر اس پریشانی بھرے ماحول میں ڈبلیو ٹی او ٹو یہ کہہ کر کچھ اُمید جگاتا ہے کہ سال 2020 کا دوسراحصہ ریکوری کا ہوگا۔

تاہم ایک طبقہ آنے والے دنوں کو بھی مندی ، مایوسی اور پریشانی کے ایام کے طور پر ہی دیکھتا ہے اور اسکا مؤقف ہے کہ اگر ریکوری ہوئی بھی تو وہ ادھوری اور طویل عرصے میں آئے گی۔

جو بھی ہے دونوں صورتوں میں تمام خطوں میں درآمدات اور برآمدات کم ہونگی اور شمالی امریکہ اور ایشیا شدید متاثر ہونگے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here