‘سرمایہ کاری میں 1.4ارب روپے کمی، آئندہ سال بھی جی ڈی پی کی شرح نمو کم رہے گی’

وسط فروری سے اب تک سٹاک مارکیٹ میں 21 فیصد، روپے کی قدر میں 3 فیصد کمی آ چکی ہے، مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی پارلیمانی کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں بریفنگ

353

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ وسط فروری سے اب تک سٹاک مارکیٹ میں 21 فیصد، روپے کی قدر میں 3 فیصد کمی آ چکی ہے، سرمایہ کاری کا حجم 1.4ارب کم ہوا،2021 میں جی ڈی پی کی شرح نمو کم رہے گی۔

کورونا وائرس پر پارلیمانی کمیٹی کا دوسرا اجلاس جمعرات کو اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، اعظم سواتی اور شیخ رشید احمد سمیت راجہ پرویز اشرف، مشاہد اللہ وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان اور سنیٹر غفور حیدری نے شرکت کی جبکہ شیری رحمان، خواجہ آصف اور  مشیرخزانہ حفیظ شیخ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ حفیظ شیخ اور مشیر برائے تجارت رزاق داؤد نے کورونا وائرس کے باعث ملکی معیشت اور تجارت پر پڑنے والے اثرات اور معیشت کی بحالی کے پلان پر بریفننگ دی۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس پاکستان کی معیشت کیلئے کس حد تک تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے؟ 

کورونا وائرس، صنعتی و کاروباری بقاء کے لیے کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے؟

کورونا سے نبرد آزما ہسپتالوں کو قرضوں کیلئے سٹیٹ بینک کی مزید لچک

مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کورونا سے پہلے معیشت بہتر اور ذخائر میں اضافہ ہورہا تھا، فروری میں مہنگائی میں کمی جبکہ برآمدات میں 3 فیصد اضافہ ہوا، درآمدات 18 فیصد کم ہوگئیں، روپیہ مستحکم اوربجٹ خسارہ 2 اعشاریہ 3 فیصد کم  ہوا ہے۔

انہں نے کہا کہ کورونا کے بعد پاکستانی معیشت پر بھی اثرات پڑے  ہیں، عالمی سطح پر مینو فکچرنگ اور ایئرٹرانسپورٹ بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

وسط فروری سے اب تک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 21 فیصد کمی ہوچکی ہے۔ سرمایہ کاری کا حجم 1عشاریہ 4ارب روپے کم ہوا ہے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ روپے کی قدر میں 3 فیصد کمی ہوئی ہے۔2021 میں جی ڈی پی کی شرح نمو کم رہے گی۔ کورونا کی وجہ سے برآمدات اور ترسیلات زرمیں بھی کمی  واقع ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے موجودہ حالات میں 1240ارب روپے کا ریلیف پیکیج دیا، تعمیراتی صنعت کیلئے بھی پیکج کا اعلان کیا جاچکا ہے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ (این ڈی ایم اے) کو ڈیڑھ ارب روپے دے چکے ہیں، 100ارب روپے کا انرجی فنڈ بنایا گیا ہے، صحت اور کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے،

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیلی ویجز ورکرزکو 200 ارب روپے دیئے جارہے ہیں، پٹرول پر70ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں کی مکمل وصولی موخر کردی گئی ہے، یوٹیلیٹی سٹورز کو 25ارب روپے جاری کر چکے ہیں۔

مشیرتجارت رزاق داؤد  پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ برآمد کنندگان کو 100ارب کا ریلیف دیا گیا ہے۔ایس ایم ای اور زرعی شعبے کیلئے بھی 100ارب کا ریلیف دیا جارہا ہے۔ایمرجنسی رسپانس کیلئے بھی فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ سپلائی لائن کو بحال رکھنا ہماری ترجیح ہے۔ عالمی اداروں نے انڈسٹری کو کھولنے سے متعلق رپورٹ دی ہے، ضروری اشیاء کے لیے سپلائی لائن کھول دی جائے گی، گندم کی کٹائی سے متعلقہ ہر طرح کی انڈسٹری اور کم رسک والے انڈسٹری کھول رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی بھی ایسی تجویز دے جن سے رسک کم ہو، کورونا سے بڑا بحران معیشت کا ہے، کورونا کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے سربراہ سنیٹر اعظم خان سواتی کمیٹی کی ٹی او آرز اور دیگر متب کردہ سفارشات  پر مبنی رپورٹ بھی اجلاس میں پیش کیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here