تاریخ میں پہلی بار 90 ممالک امداد کیلئے رابطہ کر چکے: آئی ایم ایف

ماضی میں ایسا معاشئ بحران نہیں آیا، عالمی اقتصادیات کی بحالی کا انحصار کورونا وائرس پر قابو پانے یا اسے محدودکرنے پرہے: چیف اکانومسٹ گیتا گوپی ناتھ

346

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہاہے کہ صحت عامہ کے شعبہ میں بہتری، لاک ڈاون کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے افراد کی مدد اورچھوٹے ودرمیانہ درجہ کے کاروبارکوسہولیات دینے سے عالمی اقتصادی بحالی کے عمل میں تیزی لانا ممکن ہے۔

یہ بات آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ گیتا گوپی ناتھ نے گزشتہ روز ایک ویڈیوکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء سے پیداہونے والا معاشی اور اقتصادی بحران اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس نے معیشت کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کا بحران بھی پیدا کردیا ہے۔

The extent of India's economic slowdown has surprised many ...
گیتا گوپی ناتھ (چیف اکانومسٹ آئی ایم ایف)

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی تاریخ میں یہ پہلی بارہواہے کہ 90 سے زائد ممالک نے اقتصادی امداد اورتعاون کیلئے رابطہ کیاہے، ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت اقتصادی سرگرمیاں معطل ہیں، کئی ممالک کی حکومتوں اورسٹیٹ بنکس نے امدادی پیکجز متعارف کرائے ہیں، یہ ممالک اقتصادی پالیسیاں بھی بنارہے ہیں لیکن بحران کی شدت زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

کورونا: جرمنی، فرانس، امریکا، برطانیہ کی معیشتیں بد ترین کساد بازاری کے دہانے پر پہنچ گئیں

کورونا وائرس عالمی معیشت کو دو کھرب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے: اقوامِ متحدہ

کورونا وائرس: تیل کی عالمی صنعت سے وابستہ 300 ملین افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق

کورونا وائرس، دنیا میں ایک ارب 25 کروڑ لوگوں کے روزگار کو خطرہ

آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ نے کہاکہ 1930 کے عشرہ میں عظیم کساد بازاری آئی، اس کے بعد 90 کے عشرہ اورگزشتہ عشرے میں بھی اقتصادی بحران آئے تھے تاہم حالیہ بحران کی شدت کہیں بڑھ کرہے۔

 ماضی میں آئی ایم ایف ممالک کوامدادکی فراہمی کرتی رہی تاکہ ممالک میں اقتصادی سرگرمیاں تیز کرسکیں اورلوگ پیسے خرچ کرسکے لیکن اس بحران میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ لوگوں کا گھروں تک محدودہونا ضروری ہوتاہے۔

معیشت کی بحالی کے سوال پرانہوں نے کہاکہ فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عالمی اقتصادیات کی 100 فیصد بحالی ممکن ہوسکے گی، اس کا انحصار وائرس پرقابو پانے یا اسے محدودکرنے پرہے تاہم امید ہے کہ 2021 ء میں اقتصادی بحالی کاعمل شروع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگرحکومتیں صحت اورصحت عامہ کے حوالہ سے اقدامات کریں، لاک ڈاون سے بیروزگارہونے والے افراد کو امداداوربنیادی سہولیات فراہم کریں اورچھوٹے ودرمیانہ درجہ کے کاروبار(ایس ایم ایز) کووسائل فراہم کریں تو اس صورت میں عالمی اقتصادی بحالی کے عمل میں نمایاں تیزی لانا ممکن ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here