کورونا وائرس، دنیا میں ایک ارب 25 کروڑ لوگوں کے روزگار کو خطرہ

ترقی پذیر ممالک میں ورکرز کے روگار کو زیادہ خطرات لاحق ہیں، گذشتہ تین ماہ کے عرصے میں دنیا بھر میں کام کے اوقات میں سات فیصد تک کمی کردی گئی ہے: آئی ایل او

159

لندن: مزدوروں کی عالمی تنظیم عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں کم از کم ایک ارب 25 کروڑ لوگوں کے روز گار کو خطرہ لاحق ہے۔

بدھ کو برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے حوا لے سے جاری ہونے والی رپورٹ میں آئی ایل او کا کہنا ہے جن لوگوں کا روز گار خطرے میں ہے، وہ ایسے شعبوں میں کام کرتے ہیں جنہیں اس وبا کے باعث خطرات لاحق ہیں۔

حتیٰ کہ گذشتہ تین ماہ کے عرصے میں دنیا بھر میں کام کے اوقات میں سات فیصد تک کمی کردی گئی ہے جو کم از کم 19 کروڑ 50 لاکھ کل وقتی ملازمین کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

غیر یقینی بڑھنے سے ٹیکنالوجی کمپنیاں ملازمین کو نکالنے لگیں، تنخواہوں میں بھی کٹوتیاں

 آئندہ تین ماہ کیلئے کوئی آرڈرز نہیں، آمدنی متاثر، ٹیکسٹائل مل مالکان حکومتی امداد کے منتظر

امریکا میں کورونا وائرس کے باعث 66 لاکھ سے زیادہ ورکرز بے روزگار

آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گائے ریڈر کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک دونوں میں ہی کاروبار اور ملازمین اس سے متاثر ہوں گے۔

تاہم ایسے لوگ جو غیر محفوظ کام کرتے ہیں خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں انہیں اس سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 13 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ اموات کی تعداد 79 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس اور لاک ڈائون کی وجہ سے ہر قسم کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر غیر یقینی کی فضا برقرار ہے، ایسے میں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سافٹ وئیر ہائوسز نے اپنی افرادی قوت میں کمی لانے اور تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here