لاک ڈائون، خیبر پختونخوا میں چھوٹے کاروباروں سے منسلک خواتین کس طرح متاثر ہو رہی ہیں؟

سماجی رکاوٹوں کی وجہ سے پہلے ہی نوکری کرنا مشکل ہے، اب لاک ڈاؤن کے باعث چھوٹے کاروباروں سے منسلک خواتین گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں: صدر ویمن چیمبر

345

پشاور: خیبر پختونخوا میں چھوٹے کاروباروں سے منسلک خواتین کو کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے سبب مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ کاروباری بندشوں کے باعث ایسی کئی خواتین کرائے اور یوٹیلیٹی بلز جمع کرانے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ 

خواتین کو خدشہ ہے کہ اگر حکومت چھوٹے کاروباروں کی مدد کرنے میں ناکام رہی تو ان کے کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو سکتے ہیں۔

چھوٹے کاروباروں سے منسلک خواتین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے درخواست کی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن ضرور لاگو کریں لیکن ساتھ ان کے ذرائع آمدن کی بھی حفاظت کریں کیونکہ پہلے سے ہی کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کے روزگار چھن جانے کی صورت میں نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

صدر پشاور ویمن چیمبر آف کامرس رخسانہ نادر نے پاکستان ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بیوٹی پارلرز، خواتین کے جم، دستکاری سینٹرز، ریسٹوران، بوتیک کا کام کرنے والی خواتین کے لیے ماہانہ بلز، گھروں اور دکانوں کے کرائے دینا مشکل ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

لاک ڈاؤن سے سوات کی کاٹیج انڈسٹری بھی بحران کا شکار، حکومت سے ریلیف پیکیج کا مطالبہ

ٹریکٹر انڈسٹری کو لاک ڈاؤن سے بحران کا سامنا، وزیراعظم سے ریلیف پیکیج کا مطالبہ

کورونا وائرس، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 1200 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی

انہوں نے کہا کہ کئی اضلاع میں خواتین نے مقامی اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے مالی امداد لے کر کاروبار شروع کیے تھے اور اب ان خواتین کے پاس اپنے کاروباروں کو لاک ڈائون کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے جمع پونجی موجود نہیں۔

رخسانہ نادر کا کہنا تھا کہ ویمن چیمبر سے منسلک 450 خواتین اراکین ہیں، کے پی میں پہلے ہی خواتین کے لیے سماجی رکاوٹوں کی وجہ سے نوکری تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے اور اب لاک ڈاؤن کی وجہ سے چھوٹے کاروباروں سے منسلک خواتین گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔

ویمن چیمبر کی ارکان نے کہا کہ صرف پشاور میں 40 سے زیادہ بیوٹی پارلرز، 40 کے قریب ہوم کچن اور 15 سے زیادہ ریسٹورانٹس خواتین چلاتی ہیں لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے سب بند ہو چکے ہیں۔

رخسانہ نادر نے وزیراعظم کے معاشی ریلیف پیکیج میں خواتین انٹرپرنیورز کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی اور کاروباری خواتین کے تین مہینے کے بلوں میں رعایت دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کی مدت میں اضافہ کرنے اور خواتین کو ریلیف پیکیج نہ دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں بیوٹی پارلر چلانے والی 20 خواتین موجودہ صورتحال کی وجہ سے بے روزگار ہو گئی ہیں۔

رخسانہ نادر نے کہا کہ دوسرے صوبوں کی نسبت کے پی کی خواتین کی آمدن کم ہے اس لیے وفاقی و صوبائی حکومت خواتین کی مالی معاونت کے لیے ریلف پیکیج جاری کرے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here