کورونا وائرس: سعودی عرب میں نجی کمپنیوں کو ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی اجازت مل گئی

کام اور اجرت میں کمی ملازمین کی رضا مندی سے ہوگی، اجازت کی آڑ میں کسی سعودی یا غیر ملکی ملازم کو نکالا نہیں جاسکے گا : سعودی وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی

73

جدہ: کورونا وائرس نے دنیا بھر میں معیشتوں کو شدید انداز میں متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ نجی کمپنیوں اور کاروباروں کی جانب سے ملازمین کی تعداد میں کمی یا پھر ان کی اجرتوں میں کٹوتی کی جارہی ہے۔

 اگرچہ حکومتوں کی جانب سے وائرس کے باعث پیدا ہونے والے معاشی حالات سے نمٹنے کے لیے امدادی پیکج بھی دیے جارہے ہیں مگر کسی بھی حکومت کے لیے وائرس سے بچائو کے اقدامات کی مد میں اخراجات اور کاروباروں کو بچانے کےلیے معاشی پیکج دینا آسان نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا بحران، سعودی حکومت کا نجی شعبے کی نوکریاں بچانے کیلئے 9 ارب ریال کا پیکج

سعودی کمپنی پنجاب میں پیکجنگ سیکٹر میں پانچ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کو تیار

کورونا وائرس: پاکستان میں 55 ہلاکتیں، مریضوں کی تعداد چار ہزار سے زائد ہو گئی

یہی وجہ ہے کہ اب سعودی حکومت نے ملک کی نجی کمپنیوں کو کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے حالات کے باعث ملازمین کی اجرت میں کٹوتی اور کام کے گھنٹوں میں کمی کی اجازت دے دی ہے۔

تاہم سعودی حکومت نے کمپنیوں کو پابند کیا ہے کہ ایسا ملازمین کی رضا مندی کیساتھ کیا جاسکے گا اور تنخواہوں میں کمی کام کے اوقات کے حساب سے کی جائے گی۔

سعودی وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی نے اس اجازت نامے کے بعد نجی شعبے کے ملازمین کو رابطے کی سہولت بھی دی ہے تاکہ اس اجازت کی آڑ میں ملازمین چاہے وہ سعودی شہری ہیں یا غیر ملکی کو ملازمت سے نکالنے کے اقدام بارے فوراً اطلاع حاصل کی جاسکے اور کاروائی کی جاسکے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے پہلے ہفتے ہی سعودی حکومت نے نجی کمپنیوں کو کورونا وائرس کے باعث پیدا شدہ معاشی حالات کی وجہ سے ملازمین کو نکالنے سے باز رکھنے کے لیے 9  ارب ریال کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here