چینی مافیا کے خاتمے کے لیے معاشی ماہرین کی حکومت کو تجاویز

چینی کی پیداوار صرف مقامی ضرورت کے مطابق کرنے ، گڑ کی برآمد اور تیاری کو پر کشش بنانے، چھوٹی شوگر ملوں کی تعداد بڑھانے اور سستی چینی کی درآمد کی اجازت تجاویز میں شامل

557

لاہور: چینی بحران سے متعلق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ملک کے ممتاز معاشی ماہرین نے حکومت کو شوگر انڈسٹری میں موجود مافیا کے سدباب کے لیے کچھ تجاویز دی ہیں۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں شوگر ملوں کے فرانزک آڈٹ کی سفارش کی گئی ہے تاکہ مل مالکان کے چینی بحران میں کردارسے مزید پردے اُٹھائے جاسکیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی 50.1  فیصد چینی صرف چھ گروپس پیدا کرتے ہیں۔

اس سے پہلے 2010 میں  بھی شوگر انڈسٹری میں عوامی استحصال کرنے والے مافیا کیخلاف مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے تحقیقات کی تھی اور بتایا تھا کہ یہ مافیا تین مختلف سطحوں پر کام کرتا ہے تاہم پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ سے سٹے لیے جانے کے باعث یہ رپورٹ پبلک نہیں کی جاسکی تھی ۔

ممتاز ٹیکس کنسلٹنٹ اور معاشی ماہر ڈاکٹر اکرام الحق کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے شوگر کرائسس سے متعلق رپورٹ پبلک کرنا بہت بہادری کا کام ہے کیونکہ اس میں انکے قریبی ساتھیوں کے نام بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر حق کہتے ہیں کہ حکمرانوں نے نیب، ایف آئی اے اورمسابقتی کمیشن آف پاکستان کے ہاتھ باندھ دیے ہیں اور اب یہ وزیر اعظم عمران خان کا کڑا امتحان ہےکہ وہ چینی بحران کے ذمہ داروں کو سزا دلوا پاتے ہیں یا جیت ایک بار پھر مافیا کی ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

چینی برآمد کا اصل فائدہ کاشتکاروں کو ہوا: پاکستان شوگر ملز ایسوی ایشن

آٹا بحران صوبوں میں منصوبہ بندی کے فقدان، ملز مالکان کی بے ضابطگیوں کے باعث ہوا، رپورٹ

گندم بحران، سمگلنگ میں ملوث کسٹمز کے سات اہل کار ملازمت سے برخاست

انکا کہنا تھا کہ چینی کی صنعتکاروں کی جانب سے ناجائز منافع خوری اور عوامی استحصال کا آسان حل یہ ہے کہ اس صنعت کو تحفظ دینا بند کردیا جائے اور درآمد کی اجازت دے دی جائے کیونکہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمت پاکستانی 47 روپے کے برابر ہے۔

ایک اور معاشی ماہر ڈاکٹر اسد زمان نے تجویز دی کہ مسئلے کا حل مناسب انداز سے قومیانے کی پالیسی ہے جیسا کہ چین میں ہے جہاں 70 فیصد پیداوار سرکاری کمپنیوں کے ذریعے ہوتی ہے۔

تاہم انکا کہنا تھا کہ یہ قدم یہاں اُٹھانا مشکل ہے کیونکہ آئی ایم ایف اسکی مخالفت کرے گا لہذا ہمیں اجارہ داری کو ختم کرنا ہوگا۔

انکا کہنا تھا کہ شوگر ملیں ملازمین کی یونینوں کے حوالے کرنا اور گنے کے بڑے کاشتکاروں کی زمینیں خرید کر ٹکڑوں میں چھوٹے کاشتکاروں کو فروخت کرنا بھی مسئلے کا حل ہے مگر اس سب کی سیاسی مزاحمت ہوگی۔

معاشی ماہر ڈاکٹر ندیم الحق اس حوالے سے کہتے ہیں کہ شوگر مافیا کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ صنعت کو کھول دیا جائے اور اسے تحفظ دینے کی پالیسی کو ترک کردیا جائے ۔

انکا کہنا تھا کہ انڈسٹری کو حکومتی دفاتر میں لابی بنانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور اور وزیروں اور ایم این ایز کے کاروباری مفادات نہیں ہونے چاہیے یعنی انڈسٹری مالکان پارلیمنٹ یا حکومتی دفاتر میں نہیں ہونے چاہیے۔

ڈاکٹر قیس اسلم  کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سرمایہ کاری نظام میں اس مسئلے کا حل کھلا مقابلہ ہے۔ قومیانے کی پالیسی کی مخالفت میں انکا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے کرپٹ بیورو کریسی کے ہاتھ مضبوط ہونگے جو مافیا کے مترادف ہی ہوگا۔

انکا کہنا تھا کہ مسابقتی کمیشن کو مضبوط کرنے اور تمام شوگر ملوں کو ایس ای سی پی کہ ہدایات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج  میں رجسٹرڈ کروانے کی ضرورت ہے۔

معاشی ماہر حنا آئرہ کا اس ضمن میں کہنا تھا کہ حکومت کو گنے کی ٖفصل ڈی ریگولیٹ کرنے اور چھوٹے سائز کی مزید مزید شوگر ملیں قائم کرنی چاہیے ۔

انکا مزید کہنا تھا کہ گڑ کی برآمد کی اجازت دینا اور گڑ بنانے کو پرکشش بنانے سے کاشتکار گنا شوگر ملوں کو ہی فروخت کرنے پر مجبور نہیں ہوگا اور یوں شوگر مافیا کو لگام  بھی ڈالی جا سکے گی ۔

ڈاکٹر فریدہ فیصل کہتی ہیں کہ منافع خووروں یا مافیا کے خلاف براہ راست ایکشن چینی کی سپلائی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے اور اگر حکومت ہمت کرکے اس طاقتور مافیا کیخلاف ایکشن لے بھی لیتی ہے تو چینی کی کمی کی صورت میں عوامی رد عمل  کا سامنا کیسے کرے گی ؟

انکا کہنا تھا کہ مسئلے کا حل یہی ہے چینی کے صنعت کاروں کیساتھ مذاکرات کیے جائیں اور چینی مقامی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہی  پیدا کی جائے اور چینی پیدا کرنے والے کارخانوں کی تعداد بڑھائی جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here