ٹریکٹر انڈسٹری کو لاک ڈاؤن سے بحران کا سامنا، وزیراعظم سے ریلیف پیکیج کا مطالبہ

197

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن جاری ہے اور ٹریکٹر انڈسٹری نے وزیراعظم عمران خان سے ٹریکٹر مینوفیکچرررز کی پیداوار میں کمی آنے سے ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) الغازی ٹریکٹرز محمد شاہد حسین نے کہا ہے کہ ٹریکٹر انڈسٹری کورونا وائرس بحران سے پہلے ہی مشکلات سے دوچار تھی۔ “ٹریکٹرز مینوفیکچررز صرف دیر پا سیلز ٹیکس ریفنڈ جلد واپس کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، ریفنڈ کی جلد واپسی سے انڈسٹری میں پیسے کی ریل پیل بہتر ہو گی اور انڈسٹری کی ویلیو چین میں بہتری آئے گی”۔

شاہد حسین نے مزید کہا کہ یہ وہ وقت ہے جب کسانوں کو ٹریکٹرز پر سبسڈی دینے کی ضرورت ہے, لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹریکٹرز کا پیداواری عمل رک گیا ہے اس وقت یہ پیداوار صفر ہو گئی ہے جبکہ رواں سال سے اب تک انڈسٹری 23 سے 24 فیصد نیچے آگئی ہے۔ حکومت کی طرف سے صرف الغازی ٹریکٹرز کو 700 سے 800 ملین روپے ریفنڈ دینے باقی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:   کورونا وائرس: نشاط ملز لمیٹڈ، ملت ٹریکٹرز کا پیداواری پلانٹس اور دفاتر بند کرنے کا اعلان

اسکے علاوہ شاہد سی ای او الغازی ٹریکٹرز نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے تحت تاخیر سے لاگو کیے جانے والے اضافی سیلز ٹیکس کو واپس لینا بہت ضروری ہو گا۔ ریفنڈز واپس نہ ملنے کی صورت میں ٹریکٹرز مینوفیکرچررز کو رواں مالی سال کے دوران دکانداروں کو اضافی پیسہ دینا ہو گا جس سے انڈسٹری کی پریشانیوں اور لاگت کے آپریشنز میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹریکٹرز انڈسٹری پر دوسری صنعتوں کے مقابلے میں زیادہ ہو گا کیونکہ ٹریکٹر انڈسٹری صرف یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ تباہ کن اثرات زراعت کو اپنی لپیٹ میں لیں گے جس کی وجہ انڈسٹری کے آلات کسانوں کو پیداوار زیادہ کرنے کے طریقہ کار میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آٹھ ماہ کے دوران ٹریکٹروں کی پیداوار و فروخت میں 56 فیصد، ٹرکوں اور بسوں کی پیداوار و فروخت میں 77 کمی

دکانداروں نے گزشتہ 30 سالوں میں ملک کو مقامی سطح پر 90 فیصد سے زیادہ ٹریکٹروں میں استعمال ہونے والے پارٹس تعمیر کرنے میں سہولت دی ہے اگر انڈسٹری مسلسل پیداوار عمل جاری رکھے اور تمام یونٹس فروخت کرنے سے یہ دکانداروں کو اس صورت میں بچا سکتا ہے۔

مذکورہ انڈسٹری کی پیداوار میں گزشتہ ڈھائی سال سے کمی ہوئی ہے جس سے ٹریکٹر پارٹس پروڈیوسرز کو بڑے پیمانے پر کمزور کر دیا ہے اور ان میں کچھ پروڈیوسرز بحالی کے کم مواقع کی وجہ سے بند ہوگئے جس سے ہزاروں نوکریاں بھی ختم ہوئیں۔

انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کسانوں کو فصل کی پیداوار میں بہتری پیدا کرنے سے بینکوں سے آسان اقساط پر قرضے فراہم کرنے اور ٹریکٹرز خریدنے کے لیے سبسڈی دینے کا مطالبہ کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here