وفاقی کابینہ کا کورونا ریلیف فنڈ کو ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کا امکان

152

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس پھیلنے کے سبب وفاقی کابینہ کا وزیراعظم کورونا وائرس ریلیف فنڈ 2020 کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) نے وفاقی کابینہ سے کورونا فنڈ کو ٹیکس ریلیف کی منظوری کے لیے درخواست کی ہے، جیسا کہ وفاقی حکومت ہنگامی صورتحال میں قومی سلامتی کے مقصد کے لیے کسی بھی قسم کے ٹیکس ریلیف سے مستثنیٰ یا گرانٹ کا اختیار رکھتی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے وفاقی کابینہ سے درخواست کی ہے کہ کابینہ مذکورہ ریلیف فنڈ سے ملنے والے آمدن پر ٹیکس مستثنیٰ کریں۔ یہ بھی استدعا کی گئی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 113 کے تحت ٹرن اوور پر کم سے کم ٹیکس مستثنیٰ کےعلاوہ کورونا ریلیف فنڈ کو عطیہ کی گئی رقوم سے ٹیکس کو بھی مستثنیٰ قرار دیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

نئی آٹو کمپنیوں کا کورونا وائرس کے باعث نقصان سے بچنے کے لیے ٹیکس ریلیف کا مطالبہ

کورونا سے متاثرہ صنعتوں کے لیے سوارب روپے کا امدادی پیکج دیا جارہا ہے: مشیر تجارت

اسی طرح مذکورہ آرڈیننس کے سیکشن 151, 231A, 231AA and 236P کے تحت ود ہولڈنگ ٹیکس یا کسی دوسری رقم کی وصولی، قرض پر منافع، بینک سے نقد واپسی، بینک ٹرانزیکشنز، بینکنگ ٹرانزیکشنز کے ذریعے ایڈوانس ٹیکس، بینک سے رقم واپسی سے متعلق کورونا ریلیف فنڈ کو موصول ہونے والی کسی بھی ادائیگی پر ٹیکس ادائیگی سے مستثنیٰ قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلنے کے باعث اسے عالمی وبا قرار دیا تھا۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے اور ملک کو اس وبا کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے کورونا ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیاتھا جہاں خدمتِ خلق کرنے والوں اور اوورسیز پاکستانیوں کو یکم اپریل سے پیسہ جمع کرانے کا کہا گیا تھا۔

یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ فنڈ سے جمع ہونے والی امدادی رقم کو کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کو خوراک کی فراہمی اور مالی امداد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here