کیمیکل انڈسٹری نے لاک ڈاون کے دوران کام کرنے کی خصوصی اجازت کا مطالبہ کردیا

اجازت نہ ملی تو کورونا کیخلاف استعمال ہونے والی مصنوعات سمیت برآمدی لحاظ سے اہم اشیا کی تیاری متاثر ہوگی : ایسوی ایشن سربراہ ابرار احمد

265

لاہور: پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے پنجاب اور سندھ کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ کیمیکل فیکٹریوں کو دفعہ 144 سے استثنی دیا جائے وگرنہ ٹیکسٹاٗل اور لیدر کی صنعتوں کی پیداوار رک جائے گی۔

دونوں صوبوں کے سیکرٹری داخلہ کے نام ایسوسی ایشن  کے چئیرمین اور سیکرٹری جنرل کی جانب سے مشترکہ طور پر لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ انڈسٹری قومی خزانے میں 35 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرواتی ہے اور ملکی جی ڈی پی میں 12 ارب ڈالر کی حصہ دار ہے۔

خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ انڈسٹری چار لاکھ ملازمتیں فراہم کرتی ہے اور ملک کی تمام صنعتیں اپنی مصنوعات کی تیاری کے لیے اس پر انحصار کرتی ہیں۔

ایسوی ایشن نے اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لیے خط میں 23  ایسی ضروری اشیا کا ذکر کیا ہے جن کی تیاری انڈسٹری کھلنے سے مشروط ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

جاپان کی پاکستان کو کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مدد کی پیشکش

کورونا وائرس کے باعث مشکلات کا شکار برآمدکنند گان کے لیے سٹیٹ بنک کی جانب سے چھ رعایتوں کا اعلان

لاک ڈاون کے باعث پاکستانی معیشت کو 30 ارب روپے کا نقصان

ایسوسی ایشن کے صدر ابرار احمد کا کہنا تھا کہ کیمیکل انڈسٹری کے پاس آرڈروں کا انبار ہے مگر بد قسمتی سے اسے ان صنعتوں میں شامل نہیں کیا گیا جنھیں لاک ڈاون کے دوران کام کرنے کی خصوصی اجازت دی گئی ہے۔

انہوں نے سندھ اور پنجاب کے وزراٗئے اعلی سے کیمیکل کی صنعت کو فوری طور پر کھولنے کی اجازت کا مطالبہ کیا تاکہ اس صنعت سے جڑی ہوئی صنعتوں جن کا برآمدات میں اہم کردار ہے کی سپلائی چین کو بحال کیا جاسکے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ اس اجازت میں تاخیر کیمیکل انڈسٹری کو شدید نقصان تو پہنچائے گی مگر کورونا وائرس کیخلاف لڑائی میں استعمال ہونے والی اشیا کی دستیابی کو بھی متاثر کرے گی ۔

انہوں نے یقین دلایا کہ کام کرنے کی اجازت ملنے کی صورت میں کورونا وائرس کے پیش نظر صرف ضروری ملازمین، تمام احتیاطی تدابیر اورحکومت کے جاری کردہ ایس او پیز کے تحت صنعت کو چلایا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here