بیجنگ : چین نے کہا ہے کہ رواں سال پہلے دوماہ کے دوران سافٹ ویئر انڈسٹری کی آمدنی میں 2019 ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں 11.6 فیصد کمی ہوئی جس کی وجہ کورونا وائرس کے نتیجے میں پیداواری و کاروباری سرگرمیوں کی بندش ہے۔
چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری اور فروری کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث سافٹ ویئر ٹیکنالوجی سے ہونے والی آمدنی میں سالانہ بنیادوں پر کمی ہوئی۔
دو ماہ کے دوران سافٹ ویئر کے شعبے کی کل آمدنی 800.8 ارب یوان (114.4 ارب ڈالر) رہی جو 2019 ء کے اسی عرصے سے 11.6 فیصد کم ہے۔
جنوری اور فروری کے دوران سافٹ ویئر انڈسٹری کا خالص منافع 98.1 ارب یوان رہا جو کہ جنوری اور فروری 2019 ء کی نسبت 11.8 فیصد کم ہے، سافٹ ویئر کی برآمدات کا حجم جنوری اور فروری کے دوران 5.66 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے پہلے دوماہ کے مقابلے میں 18.9 فیصد کم ہے۔
اس عرصے کے دوران شعبہ سافٹ ویئر میں ملازمین کی تعداد 5.84 ملین (58 لاکھ 40 ہزار) رہی جو سالانہ بنیا د پر 0.9 فیصد زیادہ ہے، تاہم اجرتوں کی شرح میں 2.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبرمیں چین میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد کئی شہروں کو لاک ڈائون کردیا گیا تھا ، تجارتی ، سفری پابندیوں اور وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے کیے جانے والے سخت اقدامات کے باعث عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بھی اپنے چین میں واقع دفاتر بند کرکے سٹاف کو گھروں سے کام کرنے کا حکم دے دیا تھا۔