حکومت حفاظتی انتظامات کیساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دے، گیس بل واپس لیے جائیں: تاجر برادری

گیس بلوں کی تاریخ لاک ڈائون ختم ہونے تک بڑھائی جائے: اپٹما پنجاب، چھوٹے دکانداروں کو 6 لاکھ تک بلا سود قرضے دئیے جائیں: اسلام آباد چیمبر

114

لاہور: آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) پنجاب کے چیئرمین عادل بشیر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فیکٹریوں میں مینوفیکچرنگ کا عمل شروع ہونے تک گیس کے ایڈہاک بل فوری واپس لیے جائیں۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ لاک ڈائون ختم ہونے تک مارچ کے مہینے کے گیس کے بل ادا کرنے کی تاریخ بڑھائی جائے۔

عادل بشیر نے کہا لاک ڈائون کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، تمام کاروباری و معاشی سرگرمیاں رک چکی ہیں، مینوفیکچرنگ کا عمل معطل ہے اور مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹس میں خام مال کی سپلائی بند ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کورونا وائرس، لاک ڈائون سے پاکستان میں کساد بازاری کا خدشہ

ان کا کہنا تھا چونکہ 23 مارچ کے بعد ٹیکسٹآئل ملز میں پیداواری عمل بند ہے اس لیے گیس کی کھپت نہیں ہو رہی پھر بھی گیس کے بھیجے گئے ہیں جو اپٹما پنجاب کے رکن ٹیکسٹآئل ملز مالکان حالات نارمل ہونے اور لاک ڈائون ختم ہونے تک ادا نہیں کر سکتے۔

عادل بشیر کا کہنا تھا کہ انہیں ایڈہاک بلز کی منطق سمجھ نہیں آئی، وزیر اعظم صورت حال کا نوٹس لیں اور سوئی گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو ایڈہاک گیس بلز واپس لینے کی ہدایت کریں۔

دوسری جانب اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے کہا ہے کہ ملک بھر کے کاروبار اور صنعتی ادارے کورونا وائرس کی وجہ سے بند ہیں جس سے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کورونا وائرس، پاکستان آئی ایم ایف سے معاشی مدد کے حصول کے لیے سرگرم

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے کچھ کاروبار حفاظتی انتظامات کے ساتھ کھولنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بھی 14اپریل سے کنسٹرکشن انڈسٹری اور اس سے منسلک کاروبار کھولنے کا عندیہ دیا ہے، حکومت سے اپیل کی کہ وہ باقی ماندہ کاروبار بھی حفاظتی پروٹوکول کے ساتھ محدود اوقات کیلئے کھولنے کی اجازت دے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لاک ڈاؤن طویل عرصے تک جاری رہا تو صنعتکاروں کیلئے اپنے ورکرز کو بغیر کام کے تنخواہ دینا ممکن نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے: کورونا وائرس،ہنڈا اٹلس نے پاکستان میں شورومز، دفاتراور فیکٹریاں بند کردیں

احمد وحید نے کہا کہ کام بند ہونے سے صنعتکاروں کیلئے مقامی اور بیرون ممالک کے آرڈرز پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے جبکہ بینکوں کی اقساط اور مارک اپ میں کوئی کمی نہیں کی گئی نہ ہی قرضے ڈیفر کیے گئے ہیں۔حکومتی ذمہ داران سے مارک اپ اور قرضوں کو ڈیفر کرنے کے معاملہ پر غورکرنے کی اپیل کی۔

انہوں نے تاجر برادری پر بھی زور دیا کہ وہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ تمام ایس او پیز پر پوری طرح عمل درآمد کریں اور اپنے ملازمین و گاہکوں کی حفاظت کیلئے تمام مطلوبہ اقدامات اٹھائیں۔

اسلام آباد چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر طاہر عباسی اور نائب صدر سیف الرحمٰن خان نے کہا کہ چھوٹے دکاندار دیہاڑی دار مزدوروں کی طرح ہوتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے بجلی و گیس کے کمرشل بل چند ماہ کیلئے ڈیفر کیے جانے اور چھوٹے دکانداروں کو 6 لاکھ تک بلا سود قرضے مہیا کرنے کی اپیل کی تا کہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیاں بحال کر سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here