پاکستان میں کوئی سرکاری ادارہ نہیں جو سینی ٹائزرز اور ماسکس کا معیار چیک کر سکے

215

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے ملک بھر میں ہینڈ سینی ٹائزرز کے معیار کا معائنہ کیے جانے کے دعوؤں کے برعکس حکومت کی جانب سے کوئی ادارہ سرکاری طور پر سینی ٹائزرز کے معیار کا معائنہ نہیں کر رہا۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور پاکستان سٹینڈرز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی(پی ایس کیو سی اے) کے پاس بھی ماسک اور ہینڈ سینی ٹائنررز کا معیار چیک کرنے کا اختیار نہیں، کورونا وائرس پھیلنے کے بعد مذکورہ اشیا کی مانگ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

یہ مدِ نظر رہے کہ امریکن سوسائٹی فار ٹیسٹنگ اینڈ میٹیریلز (اے ایس ٹی ایم) نے کورونا وائرس وبا پھیلنے کے بعد ہی ماسکس، ہینڈ سینی ٹائزرز اور وینٹی لیٹرز کے معیار جاری کیے تھے، پاکستانی متعلقہ اداروں کو ابھی مذکورہ معیار ملک بھر میں لاگو کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 23 کمپنیوں کے تیار کردہ سینیٹائزرز غیر معیاری قرار

وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے قائم کردہ معیار کے برعکس بہت سے غیر معیاری ہینڈسینی ٹائزرز کی نشاندہی کی ہے، مذکورہ وزارت کی جانب سے امریکن کمپنی اے ایس ٹی ایم سے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے باوجود اے ایس ٹی ایم کے قائم کردہ معیار کو لاگو کرنا باقی ہے۔

فواد چوہدری نے اپنے ایک سوشل میڈیا بیان میں کہا تھا کہ پی ایس کیو سی اے کی لیب میں مشاہدے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والے 23 قسم کے غیر معیاری ہینڈ سینی ٹائزرز ڈبلیو ایچ او کے معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ متعلقہ محکمہ صحت نے یہ 23 ہیند سینی ٹائزرز کو مارکیٹ سے ہٹانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: سرجیکل ماسکس، سینیٹائزر سمیت سات قسم کی طبی مصنوعات کی برآمد پر پابندی عائد

ایک سینئر افسر سے ہینڈ سینی ٹائزرز کےمعیار کے بارے میں جب پوچھا گیا توانہوں نے کہا ڈبلیو ایچ او نے ہینڈ سینی ٹائزرز کا معیار نہیں قائم کیا، عالمی ادارے نے صرف ہدایات دی تھیں۔

تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی مصنوعات کے معیار اے ایس ٹی ایم سے لیا جاتا ہے، اے ایس ٹی ایم 1898 میں قائم کی گئی تھی۔

پی ایس کیو سی اے کے سینئر افسر نے تسلیم کیا کہ ہینڈ سینی ٹائزرز کی کوالٹی چیک کرنے کے لیے انکے پاس اتھارٹی نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ مصنوعات جراثیم کش ہیں اس لیے یہ ڈریپ کے تحت آتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: سینی ٹائزر بنانے کیلئے پنجاب میں 16 کمپنیوں کو لائسنس جاری

اسی دوران ڈریپ کے ایک افسر نے کہا کہ جراثیم کش مصنوعات کاسمیٹکس ڈویژن کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ اس لیے اینٹی بیکٹیریل مصنوعات بشمول ڈیٹول، سینی ٹائزرز وغیرہ میں سے کوئی بھی مصنوعات ڈریپ کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

دوسری جانب مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ انہوں نے ملک میں سینی ٹائزرز کی پیداوار پر انکوائری شروع کر دی ہے، ایک افسر نے کہا کہ انکا دائرہ کار محدود ہے اور صرف صارفین کو محفوظ بنانے کے علاوہ جعلی مارکیٹنگ پریکٹسز کی نگرانی کرنا ہے۔

یہ بھی پتا چلا ہے کہ سینی ٹائزرز کے معیار کی ٹیسٹنگ پی ایس کیو سی اے اور پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کی لیبارٹریز میں کی جا رہی ہے لیکن پی سی ایس آئی آر کے ایک افسر نے کہا ان کا ادارہ صرف صابن یا سینی ٹائزرز کی کوالٹی ہی چیک کر سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here