میری کمپنی نے اپنے مارکیٹ شئیر سے کم چینی برآمد کی، جہانگیر ترین کی وضاحت

313

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر خان ترین نے چینی بحران سے متعلق رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کمپنی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے اپنے مارکیٹ شئیر سے بھی کم چینی برآمد کی۔ 

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جہانگیر ترین نے کہا کہ انکی کمپنی کا مارکیٹ شئیر 20 فیصد کے قریب ہے تاہم انکی کمپنی نے 12.28 فیصد چینی برآمد کی  لہٰذا “یہ اس سے کم ہے جتنا میں کرسکتا تھا”۔

چینی کی برآمد کے بارے میں بات کرتے انہوں نے کہا کہ چینی کی مذکورہ برآمدات ‘پہلے آئیں پہلے کریں’ کی بنیاد پر کی گئیں۔

سبسڈی سے متعلق انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستان مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت کے دوران تین ارب سبسڈی میں سے 2.5 ارب روپے سبسڈی دی گئی جب وہ اپوزیشن میں تھے۔

حال میں ایف آئی اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2018 سے چینی کی قیمتوں میں 55 روپے فی کلو سے جون 2019 تک 71.44 روپے فی کلو تک اضافہ ہوا، اس حقیقت کے باوجود جنرل سلیز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں اضافہ یکم جولائی 2019 سے لاگو کیا گیا تھا۔

جنوری 2019 میں چینی کی برآمدات کے بعد اس کی قیمت میں مقامی مارکیٹ میں اچانک سے اضافہ شروع ہوا۔

یہ بھی پڑھیے: 

وزیراعظم کے قریبی رفقا جہانگیر ترین اور خسرو بختیار چینی بحران کے ذمہ دار، سابق گورنر سندھ محمد زبیر کا دعویٰ

آٹے کا بحران جاری، چینی بھی مہنگی، 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری

حکومت کی جانب سے چینی کی برآمدات میں جن کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا ان میں وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی مخدوم خسرو بختیار کے عزیز مخدوم عمر شہریار کی کمپنی RYK Group کو ہوا جنہوں نے کُل ایکسپورٹ سبسڈی میں سے 15.83 فیصد یعنی 3.944 ارب روپے کی سبسڈی حاصل کی۔

چوہدری منیر اور پاکستان مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما مونس الہیٰ اسی گروپ کے پارٹنر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین کی جانب سے کنٹرول کی جانے والی جے ڈی ڈبلیو گروپ کو کُل سبسڈی میں سے 12.28 فیصد یعنی 3.058 ارب روپے جبکہ ہنزہ شوگر ملز کو کُل سبسڈی میں سے 11.56 فیصد یعنی 2.879 ارب روپے سبسڈی دی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ہنزہ شوگر ملز کے مالک محمد وحید چوہدری، ادریس چوہدری اور سعید چوہدری ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ شریف فیملی کی ملکیت میں شوگر ملز کو 5.91 فیصد سبسڈی یعنی 1.472 ارب روپے سبسڈی دی گئی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here