آٹا بحران صوبوں میں منصوبہ بندی کے فقدان، ملز مالکان کی بے ضابطگیوں کے باعث ہوا، رپورٹ

184

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) نے آٹے اور چینی بحران کی تحقیقات کے دوران اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ آٹا بحران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان منصوبہ بندی اور رابطوں کے فقدان اور فلور ملز کی بے ضابطگیوں کی وجہ سے ہوا۔

ایف آئی اے کی جانب سے رپورٹ وزیراعظم عمران خان کے سامنے پیش کر دی گئی ہے، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ وزیرِ خوراک پنجاب سمیع اللہ نے صوبے میں صورتحال پر قابو پانے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔

وزیراعظم کو رپورٹ کے ذریعے بتایا گیا کہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ کے فوڈ ڈیپارٹمنٹس کی جانب سے ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کو نظر انداز کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاسکو کی جانب سے حکومتی ہدف کے تحت گندم کی خریداری نہیں کی گئی، وفاقی وزیر برائے خوراک خسرو بختیار نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنے سے ہی گریز کیا جبکہ سیکرٹری خوراک کو آٹے بحران کا قصور وار قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے:

خیبرپختونخواہ میں آٹا بحران ، 20 کلو کا تھیلا 1300 روپے کا ہوگیا

جہانگیر ترین آٹا بحران میں ملوث نہیں، مشیر خزانہ ، گورنر سٹیٹ بینک کو تبدیل نہیں کیا جا رہا: وزیر اعظم

رپورٹ کے مطابق پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے گندم کی خریداری میں 20 سے 22 دن تاخیر کی اور حکومت کی جانب سے دیا گیا ہدف بھی پورا نہ کر پائی، اسکے علاوہ مذکورہ تینوں صوبوں نے گندم کی خریداری کے لیے منصوبہ بندی نہیں کی اور نہ ہی وفاقی حکومت سے رابطہ کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوڈ سیکرٹری خیبر پختونخوا اکبر خان اور فوڈ ڈائریکٹر سادات خان کو حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری کے دیے گئے ہدف کے تحت کوتاہی برتنے پر ذمہ دار قرار دیا گیا۔

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت میں کسی نے بھی گندم کی خریداری کا فیصلہ نہیں کیا اس لیے کسی بھی شخص کو موردالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

رپورٹ میں ایف آئی اے کی جانب سے آئندہ کسی بھی قسم کے بحران سے بچنے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں، صوبائی حکومتوں میں مناسب طریقہ کار، سپلائی اینڈ ڈیمانڈ اور سٹاکس کی خریداری کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بھی تجویز کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here