کورونا کے گرداب سے نکلتے چین میں سرمایہ کار دوبارہ متحرک

مارچ کے دوسرے حصے میں چینی معیشت میں 7 ارب کا کیش ان فلو، سرمایہ کار ای کامرس، تعمیرات اور خوراک کے شعبے میں مواقع ڈھونڈنے لگے

260

بیجنگ: چین کورونا وائرس کی وبا کے گرداب  سے نکلنے کی طرف تیزی سے گامزن ہے جہاں زندگی قرنطینہ سے باہرآرہی ہے اور معاشی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو رہی ہیں۔

دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں سرمایہ کاروں نے محتاط انداز میں کام شروع کردیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ چین کا عالمی وبا کا مقابلہ کرنا اور پھر اس سے نکلنا دنیا کے لیے ایک سبق ہے۔

سرمایہ کار زیر زمین ریلوے کے منصوبوں سمیت نوڈل کی کھپت تک کا بغور مشاہدہ کر رہے ہیں تاکہ لاک ڈاون سے نکلنے والی قوم کے رویے کو سمجھ سکیں۔

کچھ سرمایہ کار تعمیراتی شعبے میں مواقع ڈھونڈ رہے ہیں تو کچھ دوسرے شعبوں میں یہاں تک کہ وائرس پر بھی پوری طرح سے نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ اس کی دوسری لہر کا خطرہ بہر حال موجود ہے۔

چین میں اس وقت وبا کے مریضوں کی تعداد دنیا بھرکے متاثرہ افراد کی ایک دہائی کے برابر ہے اور ملک میں شاذر ناذر ہی نئے کیس رپورٹ ہو رہے ہیں مگر پھر بھی ملک میں نئی پابندیوں کا متعارف کروایا جانا ابھی خطرے کی موجودگی کا پتہ دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

چینی کمپنیوں نے پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کے لیے 35 ٹن میڈیکل سامان عطیہ کیا

کینیڈین کمپنی کا تمباکو کے پودوں سے کورونا کی ویکسین تیار کرنے کا تجربہ

چینی کمپنی کا کورونا وائرس کے خلاف موثر کیپسول بھاری مقدار میں پاکستان ، افغانستان اور ایران کو عطیہ

ملک میں عالمی سطح پر چینی مصنوعات کی مانگ میں کمی کے باعث برآمدات کم ہونے کے حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار محتاط ہیں اور صرف محفوظ سرمایہ کاری کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔

نقل و حمل پر پابندیوں اور دیگر احتیاطی اقدامات کی وجہ سے ملک میں آن لائن خریداری کا رجحان بڑھ رہا ہے جس سے علی بابا جو کہ آن لائن ریٹیلر ہے اور ٹینسینٹ جو کہ آن لائن گیمنگ، ای کامرس اور سوشل میڈیا پر مبنی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ہے کو بےحد فائدہ ہورہا ہے۔

اسی ٹرینڈ کی بنا پر امریکی کمپنیاں جیسا کہ فیسبک ، ایپل اور گوگل کو بھی فائدہ ہورہا ہے۔

اس ٹرینڈ کی ایک وجہ یہ  ہے کہ اگرچہ لوگ اپنے کاموں پر تو جا رہے ہیں مگر وہ غیر ضروری سفر سے گریز بھی کر رہے ہیں ایسے میں وہ تفریح کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لے رہے ہیں ، آن لائن گیمنگ کا شعبہ اس چیز سے خاص طور پر مستفید ہو رہا ہے۔

اگرچہ مارچ کے دوسرے حصے میں چینی معیشت میں 7 ارب ڈالر کا کیش ان فلو ہوا ہے مگر ایکسچینج ڈیٹا مارچ کے پورے مہینے میں کیش کا ریکارڈ آوٹ فلو بھی دکھا رہا ہے اور اسی سبب ماہرین نے تیس سالوں میں پہلی دفعہ چینی معیشت کے سکڑنے کی پیشگوئی کی ہے۔

ادھر بینک آف امریکا نے بھی چین کی مالی سال 2020 کے لیے شرح ترقی 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.2 فیصد کر دی ہے۔ جبکہ 2019  میں  یہ شرح 6.1 فیصد تھی ۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here